خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 359
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۵۹ ۲۷ دسمبر ۱۹۶۹ ء۔دوسرے روز کا خطار تک اس دل میں خدا تعالیٰ کی قدرت کا ملہ سے تاریں نہیں کھینچی گئیں۔اس وقت تک جو دوسروں کا عقیدہ تھا وہ کہتا اور جس وقت خدا نے اسے کہا کہ دوسروں کا عقیدہ بھی غلط اور اب تک تیرا عقیدہ بھی غلط۔پس وہ خدا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا پیارا بغیر کسی ہچکچاہٹ کے کھڑا ہوا اور اس نے کہا کہ میں آج تک غلطی کر رہا تھا کیونکہ اپنی طرف سے کہتا تھا آج مجھے خدا نے بتایا ہے اور میں تمہیں یہ کہتا ہوں کہ جو میں کہتا رہا اور جو پہلے لوگ کہتے رہے۔وہ بات غلط تھی لیکن جو خدا تعالیٰ کہتا ہے وہ بات صحیح ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب اور تفسیر میں مجموعی طور پر کوئی ابدی غلطی نہیں رہی یعنی جو چلتی رہی اور جسے کسی اور نے ٹھیک کرنا ہے۔اس کے اوپر بحث کرنی ہے کہ آیا ٹھیک ہے یا نہیں۔میں اس لئے یہ کہتا ہوں کہ ہم سب کے آقا اور خدا کے محبوب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا تھا کہ میرا وہ عظیم روحانی فرزند حکم ہو کر تمہاری طرف آئے گا۔اس کا آخری فیصلہ تمہارے لئے آخری اور قطعی ہو گا۔اگر ہم یہ نہ مانیں تو پھر آپ حکم نہیں اور اگر ہم حکم نہ مانیں تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانے والے ہیں۔آخری فیصلہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا بطور حکم کے قطعی فیصلہ ہے۔اس کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔ہم کچھ حقیر ساتحفہ اپنے اللہ کے حضور ہر سال ہی پیش کرتے ہیں اور پھر اس جلسہ کے موقع پر اس کا ذکر خلاصہ ہو جاتا ہے اس لئے کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہم اللہ کے شکر گزار بندے بنیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بار بار فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ شکر گزاری سے پیار کرتا ہے شکر گزاری کو پسند کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ ناشکری کو نا پسند کرتا اور ناشکروں کو اپنی درگاہ سے دھتکار دیتا ہے۔بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ شکر صرف نتیجہ پر ہی کیا جاتا ہے جو کسی کو حاصل ہوتا ہے مثلاً بچوں کو اور نوجوانوں کو سمجھانے کے لئے میں یہ مثال دے رہا ہوں کہ جو نو جوان یو نیورسٹی کی سو گز کی دوڑ میں حصہ لیتے ہیں۔ان میں سے جو اول آیا اسے صرف اول آنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا شکر کرنا چاہئے لیکن جو حقیقت سے واقف ہیں وہ یہ جانتے ہیں کہ صرف نتیجہ پر ہی شکر ادا نہیں کرنا چاہیے۔بلکہ نتیجہ کا سامان پیدا کرنے والے کے لئے اور نتیجہ کے سامان پیدا کئے جانے پر اس سے بھی زیادہ شکر ادا کرنا چاہئے یعنی اللہ تعالیٰ کا جس نے یہ طاقت دی ایک انسان کو کہ وہ اپنے جسم کو اور اعصاب کو اتنا مضبوط کرے اور پریکٹس سے اتنا اچھا ہو جائے کہ وہ دوسروں کے آگے نکلے اس توفیق کے بغیر تو وہ آگے نکل ہی نہیں سکتا اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے اس بات پر کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اور اس کے