خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 336
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ٣٣٦ ۲۸ / دسمبر ۱۹۶۸ء۔اختتامی خطاب سے بڑی میں اللہ تعالیٰ کی جس صفت کا جس قدر جلوہ ہمیں نظر آتا ہے وہ صرف اس لئے ہے کہ اس جلوہ کے نتیجہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان بلند ہو۔تو یہ دعویٰ تو بڑی وضاحت کے ساتھ اور بڑی پختگی کے ساتھ ثابت ہو گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیدائش عالم کی وجہ بنے ہیں اور آپ اشرف المخلوقات اور انسان کامل اور خاتم النبیین ہیں۔بعض لوگ غلطی کر جاتے ہیں ایک جگہ میں نے لکھا ہوا دیکھا ہے کہ کسی شخص نے اپنی نادانی میں یہ لکھ دیا کہ اصل تو سورج ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ظلمی اور اعزازی طور پر سراج منیر کا نام دے دیا گیا ہے۔حالانکہ حقیقت یہ ہے جیسا کہ میں نے اب بڑی وضاحت سے بیان کر دیا ہے کہ اصل سراج منیر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے۔ہماری دنیا کا یہی ایک سورج نہیں دنیا کے لاکھوں کروڑوں سورج اظلال محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ نور نہ لیتے تو ساری دنیا اور فضاء میں اندھیرا ہی اندھیرا ہوتا۔اب یا تو میں یہاں ختم کر دوں اور پھر اگلے سال یہ مضمون چلے اور یا میں اس کو مختصراً بیان کر دوں ویسے سارا مضمون تو اس سال بیان نہیں ہوسکتا اور پھر اگلے سال بھی چلے۔میں مختصر بیان کر دیتا ہوں۔اگلا سوال ہے ، وہ بھی بڑا اہم ہے ایک سوال تو مجھے یقین ہے آپ میں سے سب نے ہی اس مسئلہ کو سمجھ لیا ہو گا کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہ ہوتے تو نبوت کا دروازہ بند، انسان کی تخلیق ناممکن ، کائنات کا وجود ہی نہ ہوتا کچھ بھی نہ ہوتا۔یہ ہمارے علم کے مطابق ہے۔خدا تعالیٰ کی صفات تو نہ جانے کہاں کہاں جلوہ گر ہو رہی ہیں۔اب سوال یہ ہے اور بڑا اہم ہے اور بڑا ضروری ہے کہ یہ بھی مانا کہ روایت صحیح، یہ بھی مانا کہ علمائے امت کا یہ مذہب تھا یہ بھی مانا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قرآن کریم کی آیات کی یہی تفسیر کی ہے۔یہ بھی مانا کہ پہلے انبیاء کی شہادت بھی اس کے حق میں ہیں لیکن اس کا مطلب کیا ہے؟ کہ جو پاک وجود پانچویں ہزار سال میں پیدا ہوا اس نے ظہور کیا اور وہ خاتم النبین بنا۔پانچ ہزار سال پہلے اس کے فیوض کس معنے میں اور کس رنگ میں آدم علیہ السلام کو اور دوسرے انسانوں کو پہنچ رہے تھے۔کیونکہ جب ہم ان چیزوں پر غور کرتے ہیں تو ہمارے لئے یہ بڑا مشکل