خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 335 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 335

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۳۵ ۲۸ / دسمبر ۱۹۶۸ء۔اختتامی خطاب رہا کہ میں نے اس ساری کائنات کو مد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے پیدا کیا ہے یعنی ایک ایسا وجود جو میرا ( یعنی اللہ تعالیٰ کا مظہر اتم بنے۔جس کے معنے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کا ملہ کا کامل اور مکمل طور پر وہ مظہر ہو اور چونکہ وہ نبی پیدا ہونا ہے اس واسطے ان جسمانی ذہنی اخلاقی اور روحانی استعدادوں کو کمال تک پہنچانے کے لئے جس کا ئنات کی ضرورت تھی وہ کائنات میں نے پیدا کی۔وہ چیزیں پیدا کیں۔تو سورج کی پیدائش کی غرض یہ ہے کہ اس زمین میں ایسے اثرات پیدا کرے کہ جس کے نتیجہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جسمانی قوتوں کو ایک طاقت ملے۔اب میں تھوڑ اسا بیان کر دیتا ہوں۔عام طور پر آپ کے دماغ میں یہ خیال آئے گا کہ ٹھیک ہے انسان جو پہلے ہوئے انہوں نے حصہ لیا۔افضل الرسل اور انسان کامل اور خاتم النبیین سورج کی کیا ضرورت تھی؟ تو میں نے بتایا کہ اس سلسلہ پیدائش میں ایک سلسلہ تدریجی ارتقاء کا چل رہا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں یہ نقطہ سکھایا ہے کہ کھانے پینے کا اخلاق پر بڑا اثر ہے۔اسلامی اصول کی فلاسفی اور دوسری جگہ آپ نے بڑی وضاحت سے بیان فرمایا ہے کہ ہماری غذا ہمارے اخلاق پر اثر انداز ہو رہی ہے۔تو بہترین اخلاق جس میں انسانی جو روح ہے اور اس روح میں اخلاق اور اس جسم میں ان اخلاق کے نبھانے کی طاقت پیدا ہونے کے لئے ضرور تھا کہ اس کے مطابق بہترین غذا ملے اور غذا مادی دنیا سے تعلق رکھتی ہے۔اسی طرح میں نے بات سمجھنے کے لئے چھوٹی سی مثال دی ہے۔تو ہر چیز اس لئے پیدا کی گئی ہے کہ جہاں تک مادی دنیا کا تعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق بہترین شکل میں دنیا پر ظاہر ہوں۔تو انبیاء علیہم السلام میں بھی جو پہلے گذرے انہوں نے بھی یہ شہادت دی۔جو آپ کے بہ اس امت کے بزرگ گذرے اور ہمارے نزدیک جن کے سر دفتر اور سردار حضرت مسیح موعود بعد و مہدی معہود ہیں۔انہوں نے یہ گواہی دی کہ یہ دعویٰ صحیح ہے کہ پیدائش عالم کی علت محمد رسول ا صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے اور آپ نے فرمایا ہے کہ یہ مقام جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملا کہ روحانی طور پر تمام برکات کا افاضہ کرنے والے، اور ہر غیر وہ موسیٰ ہو یا عیسی یا آدم یا ابراہیم یا نوح علیہم السلام، روحانی طور پر سب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھیک مانگ کر روحانی رفعتوں کو حاصل کرنے والے ہیں اور جو مادی مخلوق ہے اس میں بھی ہر خلق میں چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی