خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 222
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۲۲ ۱۲/جنوری ۱۹۶۸ء۔دوسرے روز کا خطاب ڈنمارک کے مسلمانوں نے جماعت احمدیہ کے روحانی سربراہ کی خدمت میں آسمانوں کے خدا کی پیشگوئی کہ تمام مخلوق کرسمس کی شام کو ایٹم کی جنگ کے نتیجہ میں زمین زد ہو جائے گی کی اطلاع عرض کی تھی تو آپ نے بڑے زبردست الفاظ میں اس پیشگوئی کے غلط ہونے کا اشارہ کیا تھا۔”اس کے بعد اس نے حضور کے تمام الفاظ من و عن نقل کئے ہیں اپنے اخبار میں اور کہیں کہیں مناسب رنگ میں اپنی طرف سے ایک سطر کے نوٹ بڑھا دیئے ہیں“ اس کے بعد لکھتے ہیں۔تعجب کی بات یہ ہے کہ انفارمیشن ( یہ اخبار ہے جس کے خط لکھا ہے ) ڈنمارک کا واحد اخبار ہے جس نے حضور کی آمد اور مسجد کے افتتاح کا کوئی ذکر نہیں کیا بلکہ خاکسار کے علم کے مطابق عمداً ذکر سے اجتناب کیا ہے اب بھی یہ واحد اخبار ہے جس نے حضور کے مکتوب کے اعلان کو من وعن شائع کر دیا ہے“ ایک اور خط میں تئیس رمضان کو لکھتے ہیں۔”ہمارے پڑوس کے پادری نے یہاں کے لوکل اخبار میں لکھا ہے اس کا آخری فقرہ یہ ہے کہ ان لوگوں کے لئے جنہوں نے یہ پیشگوئی کی تھی یہاں ڈنمارک میں کوئی جگہ نہیں۔اس شخص کے ساتھی نے دو مضامین مسجد کے متعلق لکھے تھے جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق تمسخر سے ذکر کیا تھا اللہ تعالیٰ نے اس کو تنبیہ کی کہ اخبارات نے لکھا کہ ان جیسوں کے لئے ڈنمارک میں کوئی جگہ نہیں۔۴ جنوری کو عبدالسلام صاحب میڈیسن (اصل میں تو میرے وہی مخاطب تھے انہوں نے ہی مجھے اطلاع دی تھی) نے بڑی خوشی اور مسرت سے جو خط لکھا ہے اس کے چند فقرے یہ ہیں۔یو نیورسل لنک کے نام سے دنیا میں جو ایک پیشگوئی کی گئی تھی اور ایک سلسلہ قائم کیا گیا تھا وہ کلی طور پر اللہ تعالیٰ نے مٹا دیا ہے جس شخص نے پیشگوئی کر کے رسول ہونے کا دعوی کیا تھا وہ بھاگ گیا ہے اور کسی کو پتہ نہیں کہ وہ کہاں غائب ہو گیا اور عوام یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ یونیورسل لنگ کی تحریک کو کورٹ میں پرسیو (Persue) کیا جائے اور ان پر مقدمہ چلایا جائے کیونکہ یہ لوگوں کا روپیہ کھا گئے ہیں۔“ :