خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 223 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 223

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۲۳ ۱۲/جنوری ۱۹۶۸ء۔دوسرے روز کا خطار یہ ایک عظیم الشان نشان ہے میں سمجھتا ہوں کہ ایک شخص نے دھڑلے سے ایک پیشگوئی کی اس نے کچھ لوگوں کو اپنے گرد جمع بھی کر لیا اور ان سے پیسے بھی وصول کئے اور اعلان کیا کہ جو یو نیورسل لنک کے ساتھ لنک کرے گا اور تعلق قائم کرے گا وہی بچے گا اور کوئی نہیں بچے گا اور لوگوں نے اس کی طرف توجہ کی اور جب اس کی پیشگوئی کے غلط ہونے کا وقت آیا اس وقت چونکہ پھر لوگ بھول جاتے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کئے کہ پہلے اخباروں نے اس کی طرف توجہ نہیں دی تھی۔بلکہ کرسمس کے قریب میں آ کر اس کی طرف توجہ دی اور ساتھ ہی انہوں نے میرے خط کی طرف بھی توجہ دی اور میں سمجھتا ہوں کہ اب بھی جب کہ میں نے خط پڑھا تو میں حیران رہ گیا کہ اس دھڑلے اور زور کے ساتھ کیسے لکھ دیں میں نے یہ ساری باتیں اور میرے لئے بھی یہ حیرت کی بات ہے کیونکہ اللہ نے ہی لکھوائی ہیں کہ اعلان کرو اور ہر ممکن ذریعہ سے لوگوں تک یہ آواز پہنچا دو کہ یہ شخص جھوٹا ہے اس کی پیشگوئی کبھی پوری نہیں ہوگی۔اور اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی ذلت اور ان لوگوں کی ذلت کے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر تمسخر کرتے تھے کس طرح سامان پیدا کر دیئے اور ڈنمارک اور باقی دنیا کے لئے ان ہزاروں نشانوں میں سے جو احمدیت کو وہ دکھاتا چلا آ رہا ہے ایک اور نشان دکھایا۔اللہ تعالیٰ ہمیں ہمیشہ ہی اپنے نشانوں سے اور اپنی تائیدات سے تقویت پہنچاتا رہے۔اور ہم ناچیز بندے ہیں۔ہمارے سارے کام وہ کرے اور جہاں تک ہمارے دل کا تعلق ہے ہم تو یہ کہتے ہیں کہ ہمیں ان کا کریڈٹ (Cradit) نہ دے ہمارے سر اس کا سہرا نہ باندھے۔صرف اپنی رضا ہمیں دے دے۔اس کے بعد ہمیں کچھ نہیں چاہئے۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ (از رجسٹر خطابات ناصر غیر مطبوعہ )