خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 221
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۲۱ ۱۲ جنوری ۱۹۶۸ء۔دوسرے روز کا خطاب نبیوں کے سرتاج محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم آج سے چودہ سو سال قبل فرما چکے ہیں۔اللہ تعالی آپ کے ساتھ ہو اور آپ کی کوششوں میں برکت ڈالے“ امام کمال یوسف ۲۱ رمضان کو لکھتے ہیں۔چند دنوں سے اس شہر میں ( بروک شاید اس کا نام ہے جہاں ان لوگوں نے نہ خانہ بنوایا تھا ) ایک استاد جنہوں نے آسمان کے خدا سے وحی پا کر کرسمس کی شام کو ساری دنیا کی ایٹمی جنگ کی تباہی کی زد میں آنے کی پیشگوئی کی تھی کا بعض اخبارات میں خوب چرچا رہا ( اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کر دیئے کہ ان کی پیش گوئی کا چر چائین اس وقت ہو گیا جب وہ باطل ہونی تھی ) ایٹمی جنگ سے بچاؤ کے لئے انہوں نے پولیس سے اجازت کے بغیر حفاظتی تہ خانے بھی تیار کر والئے۔تہ خانوں کی تصاویر بھی اخبارات میں آئیں اخبارات میں یہ تذکرہ ہو ہی رہا تھا کہ ان تمام اخبارات کو اس پیش گوئی کے خلاف حضور کے مکتوب گرامی کا ترجمہ جس میں حضور نے واضح الفاظ میں اس عرصہ کو امن کا زمانہ اور عالمی جنگ کے نہ ہونے کا اعلان فرمایا ہے پہنچا دیا گیا۔اس پر ڈینش ٹیلی ویژن والوں نے انٹرویو کے دوران ان سے پوچھا کہ کیا واقعی ۲۵ دسمبر ۱۹۶۷ کو ایٹمی جنگ کی معین تاریخ سے آپ کو خلا کے خدا نے اطلاع دی ہے تو استاد صاحب صاف انکار کر گئے کہ مجھے معین تاریخ سے اطلاع نہیں دی گئی اگر معین تاریخ سے اطلاع نہیں دی گئی تھی تو ایٹم بم سے بچاؤ کے لئے اتنی عجلت میں پولیس کے منع کرنے کے باوجود تہ خانے بنوانے کی کیا وجہ تھی۔اس پر پوچھا گیا کہ پھر تاریخ کا اعلان کیوں کیا گیا اس کا اعلان کیا گیا تھا وہ اس کا انکار نہیں کر سکتا تھا ) تو کہنے لگے کہ رچرڈ گر یو جو اس تنظیم کے رئیس ہیں ان کو غلطی لگی ہے امام کمال یوسف لکھتے ہیں۔66 کمال یوسف کا اندازہ یہی ہے کہ حضور کے مکتوب گرامی جو خاکسار نے ان کو بھیجا تھا کو پڑھ کر متاثر ہوئے ہیں آج اس سلسلہ میں اخبار کا پہلا تراشہ ملا ہے کہ جو ۱۹ دسمبر کا شائع شدہ ہے اخبار کی دو کالمی سرخی کا ترجمہ یہ ہے آسمانوں کے خدا کی پیش گوئی جو اس کے نام سے کی گئی تھی کے خلاف مسلمانوں کا انتباہ اس سرخی کے بعد نامہ نگارا پنا نوٹ لکھتا ہے