خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 159 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 159

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۵۹ ۲۸ جنوری ۱۹۶۷ء۔اختتامی خطاب مسئلہ لے لیں تم اپنے زعم کے مطابق میں ایک رنگ میں اس کے لئے دعا کریں اور اس کے مقابلہ پر میں جو ایک نہایت ہی ادنیٰ خادم ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ہوں اور آپ کے آقا و مطاع محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام ہوں۔اکیلا دعا کروں گا اور اس وجہ سے نہیں کہ میں کوئی چیز ہوں بلکہ اس کے لئے کہ اسلام خدا تعالیٰ کی نگاہ میں ایک بہت بڑی صداقت ہے اور اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ آپ کے خلفاء کی مدد کے لئے آسمان سے اترا کرے گا۔میں آج اس بات کو دہراتا ہوں کہ اگر آپ سب کے مقابلہ میں میں اکیلا دعا کروں گا۔تو اللہ تعالیٰ میری دعا کو قبولیت بخشے گا اور آپ کی دعاؤں کورڈ کر دے گا۔عیسائیت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب مبعوث ہوئے تو عیسائیت بڑے زوروں پر تھی۔اس مذہب نے تمام دنیا میں ایک جال بچھا دیا تھا۔افریقہ میں بھی ہمارے ہندوستان میں بھی۔جزائر میں اور دوسرے ممالک میں اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص حکمت کے ماتحت اور اپنی ان پیشگوئیوں کے مطابق جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی تھیں۔اس قوم کو جو حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اصطلاح میں دجال کی پیٹھ ٹھونکنے والی اور ان کی مدد کرنے والی تھی۔یہ طاقت دی کہ وہ دنیا میں سیاسی اقتدار اور غلبہ حاصل کرے جہاں جہاں بھی وہ گئے انہوں نے اپنے پادریوں کی سیاسی میدانوں میں بھی مدد کی اور پیسہ سے بھی ان کی مدد کی۔انہوں نے جو روپیہ اس سلسلہ میں خرچ کیا۔وہ آپ اپنے تصور میں بھی نہیں لا سکتے۔انہوں نے اسلام کے مقابلے میں اور عیسائیت کے حق میں دل کھول کر خرچ کیا اور ان کی کوششوں کے جو بڑے بڑے طریق ہمیں نظر آتے ہیں۔(ویسے تو ہزاروں طریق تھے جو انہوں نے استعمال کئے لیکن جو موٹی موٹی باتیں ہیں وہ یہ ) کہ ایک طرف اسلام کے خلاف نہایت جھوٹا اور اشتعال انگیز پروپیگینڈ اساری دنیا میں کرنا شروع کیا تمام ملکوں میں اور وہ اس حد تک کہ انسانیت کو شرم آجاتی ہوگی جب وہ اپنے اندر اس قسم کے انسان بھی دیکھتا ہوگا کہ اس میں اس قسم کے انسان موجود ہیں اور ہر بیان کی بنیاد جھوٹ اور باطل روایات کے اوپر تھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی (اپنے زعم میں نعوذ باللہ ) اتنی بھیا نک شکل اور