خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 160 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 160

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) 17۔۲۸ / جنوری ۱۹۶۷ء۔اختتامی خطاب اتنی بھیا نک تصویر بنائی اور کہ جو بھی اسے دیکھے الفاظ کے جامہ میں۔وہ اس تصویر سے نفرت کرنے لگے آپ سے نفرت کرنا شروع کر دے حالانکہ وہ تصویر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نہ تھی نہ ہو سکتی تھی۔ان لوگوں کی نگاہ میں بھی وہ آپ کی تصویر نہیں ہو سکتی تھی جن کو آپ کی سوانح سے کچھ تھوڑا بہت علم ہو جائے۔جیسا کہ بعد میں اب خود عیسائی مفکرین اور مستشرقین میں سے بعض نے یہ کہنا شروع کیا۔یا یوں کہنا چاہئے کہ وہ یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ جو تصویر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہم سے پہلوں نے کھینچی تھی وہ درست نہیں تھی اس میں جھوٹ سے کام لیا گیا تھا۔اس میں بددیانتی سے کام لیا گیا تھا۔اس میں تعصب سے کام لیا گیا تھا۔غرض ان لوگوں نے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جھوٹا پروپیگینڈا، اسلام کے خلاف جھوٹا پروپیگینڈا ، ہماری تاریخ کو بالکل بدل دیا۔توڑ دیا اور اسے مسخ کر دیا۔ہماری خوبصورتیوں کے اوپر اپنے گندے خیالات کے دھبے لگا کر ان کو بدصورت کرنے کی کوشش کی گئی۔پھر انہوں نے روپیہ کا لالچ بھی دیا۔جہاں غریب دیکھا۔وہاں اس کی مدد کے لئے آگئے جہاں کوئی جاہل لیکن علم حاصل کرنے کا شوق رکھنے والا بچہ دیکھا۔اس کو لے آئے اس کو علم دیا اور اس کے مذہب کو بگاڑ دیا۔افریقہ میں اور ہمارے ملکوں میں بڑی کثرت سے۔اور اغوا تک سے یہ باز نہیں آئے۔میں اس بات کا خود عینی شاہد ہوں۔بٹالہ میں ایک بیرنگ سکول تھا۔اس میں میں خودان سرحدی لڑکوں سے ملا ہوں۔جن کو ان کے ماں باپ کی اجازت اور ان کے علم کے بغیر عیسائی وہاں سے اس علاقہ میں لے آئے تھے اور بیرنگ سکول جیسی ایک الگ جگہ میں انہیں رکھا ہوا تھا۔شروع میں جب ہمارے سکول کے ان کے اس سکول سے مختلف میچ ہوئے اور قادیان کی ٹیموں نے وہاں جانا شروع کیا تو انہوں نے کچھ خیال نہ کیا لیکن بعد میں انہوں نے خیال کیا کہ یہ تو بڑی خطرناک بات ہے۔ہمارے راز انہیں معلوم ہورہے ہیں اور انہوں نے ہمارے اوپر ہر وقت ایک دو استا در کھنے شروع کر دیئے تا ان کے اس قسم کے نوجوانوں کے ساتھ ہماری کوئی گفتگو نہ ہو سکے۔انہوں نے اغوا کے طریق کو بھی استعمال کیا۔پھر بے حیائی اور بداخلاقی کا بھی ایک طریق ہے کیونکہ انسان کے اندر یہ بھی کمزوری پائی جاتی ہے اس سے انہوں نے فائدہ اٹھایا مثلاً ناچ اور گانے کی عادت ڈال دینا مثلا بے پردگی کے نتیجہ میں جو گندے معاشقے ہوتے ہیں۔ان کی عادت ڈال دینا نوجوانوں میں اور ان کو مجبور کر دینا اور انہیں بد اخلاقی