خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 155 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 155

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) و ۱۵۵ ۲۸ / جنوری ۱۹۶۷ء۔اختتامی خطاب ہیں۔ان کو بریکٹ کر کے دی ہے۔چنانچہ آپ مصلح موعود‘ کی پیشگوئی کے بعد فرماتے ہیں۔پھر خدائے کریم جل شانہ نے مجھے بشارت دے کر کہا کہ تیسرا گھر برکت سے بھرے گا اور میں اپنی نعمتیں تجھ پر پوری کروں گا اور خواتین مبارکہ سے جن میں سے تو بعض کو اس کے بعد پائے گا۔تیری نسل بہت ہوگی ( مثلاً مرزا مبارک احمد صاحب فوت ہو گئے تو ان کی بجائے ایک اور لڑکا دینے کا بھی وعدہ تھا۔اس وعدہ کو پورا کرنے کے لئے ان خواتین مبارکہ میں سے ایک خاتون مبارک میری والدہ کی شکل میں آگئیں) اور میں تیری ذریت کو بہت بڑھاؤں گا اور برکت دوں گا مگر بعض ان میں سے کم عمری میں فوت بھی ہوں گے (اگر آپ غور کریں تو یہ بھی ایک عظیم الشان پیشگوئی ہے۔اس پر سے یونہی نہیں گزر جانا چاہئے۔میرے علم میں ایسے بہت سے خاندان ہیں۔جن کی کوئی اولا دفوت نہیں ہوئی۔اگر ان کے ہاں چار بچے پیدا ہوئے ہیں تو خدا تعالیٰ کے فضل سے وہ چاروں بچے زندہ موجود ہیں اور خدا تعالیٰ انہیں زندہ رکھے۔میرے پانچ بچے پیدا ہوئے ہیں اور پانچوں زندہ موجود ہیں لیکن حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کو بطور پیشگوئی اللہ تعالیٰ نے بتایا تھا کہ تیرے سارے بچے زندہ نہیں رہیں گے بلکہ بعض ان میں سے مر بھی جائیں گے۔اور یہ ایک زبردست پیشگوئی ہے۔آدمی اپنے طور پر یہ ثابت نہیں کہہ سکتا) اور تیری نسل کثرت سے ملکوں میں پھیل جائے گی اور ہر ایک شاخ تیرے جدی بھائیوں کی کائی جائے گی اور وہ جلد لا ولد رہ کرختم ہو جائے گی اگر وہ تو بہ نہ کریں گے۔ان کے گھر بیواؤں سے بھر جائیں گے ( جیسا کہ ہم نے دیکھا اور ان کی دیواروں پر غضب نازل ہوگا لیکن اگر وہ رجوع کریں گے تو خدارحم کے ساتھ رجوع کرے گا۔خدا تیری برکتیں اردگرد پھیلائے گا اور ایک اُجڑا ہوا گھر تجھ سے آباد کرے گا اور ایک ڈراؤنا گھر برکت سے بھر دے گا تیری ذریت منقطع نہیں ہوگی اور آخری دنوں تک سرسبز رہے گی ( یہ بڑی زبر دست پیشگوئیاں ہیں۔پچھلی صدی میں ہی لکھوکھا خاندان ایسے پیدا ہوئے ہیں کہ ان کی نسل کے متعلق بھی پتہ ہی نہیں اور ہم نہیں جانتے کہ ان کا تعلق کس خاندان کے ساتھ ہے۔غرض بہت کم ہی لوگ ایسے ہوتے ہیں۔جن کی نسل اس طرح زندہ رہتی ہے اور وہ بھی اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق ) خدا