خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 154 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 154

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۵۴ اپنی جائیداد قیمتی دس ہزار روپیہ پر قبض و دخل دے دوں گا۔“ ۲۸ / جنوری ۱۹۶۷ء۔اختتامی خطاب مگر واضح رہے کہ اگر اپنی کتاب کی دلائل معقولہ پیش کرنے سے عاجز اور قاصر رہیں یا برطبق شرط اشتہار کی شمس تک پیش نہ کر سکیں تو اس حالت میں بصراحت تمام تحریر کرنا ہوگا جو بوجہ نا کامل یا غیر معقول ہونے کتاب کے اس شق کے پورا کرنے سے مجبور اور معذورر ہے۔“ صرف ہم اتنا چاہتے ہیں کہ تم یہ لکھ دینا کہ ہماری کتاب اس بات سے عاجز اور معذور۔کہ قرآن کریم کے دلائل کے مقابلہ میں آپ کی بتائی ہوئی شرط کے مطابق ہم دلائل کو پیش ا کر سکیں۔پھر آپ نے لکھا کہ میں نے پانچ شقیں بنائی ہیں۔ان میں سے ہر شق کا نصف یا تیسرا حصہ یا چوتھا حصہ یا پانچواں حصہ مراد ہے۔کسی ایک شق کو نہیں لینا۔اب جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے۔اس دعوت مقابلہ میں جمیع ارباب مذہب اور ملت مخاطب ہیں اور تمام مذاہب کو جو اسلام کے مقابلہ میں آتے ہیں یا اپنے آپ کو اسلام کا مقابل سمجھتے ہیں۔صرف اس خیال سے خوش نہیں ہو جانا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے رب کو پیارے ہوئے اور اب ہمیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نیابت میں تمام ان مذاہب کو جو اسلام کے مقابلہ میں آسکتے ہیں یہ کہتا ہوں کہ انہی شرائط کے مطابق جو براہین احمدیہ کے متعلق اس اشتہار میں بیان کی گئی ہیں۔تم آؤ اور ہمارے ساتھ مقابلہ کر کے دیکھ لو۔خدا تعالیٰ ثابت کر دے گا کہ عاجز بندوں سے بھی وہ میرے جیسے عاجز بندوں کو بھی اپنے منشاء کے مطابق اسلام کے حق میں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے ثبوت میں استعمال کر سکتا ہے۔چوتھی دعوت فیصلہ تمام مذاہب کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک اور طریق پر بھی دعوت مقابلہ دی ہے اور وہ دعوت مقابلہ مصلح موعود کی پیشگوئی اور اس کے ساتھ باقی اور جو پیشگوئیاں