مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 574
4,21753 1994 ء 2,04308 1993 میزان 16,48,75,605 ( الفضل 27 دسمبر 2003ء) دور ہجرت کے پہلے سال 85-1984ء میں نئی بیوت الذکر (مراکز نماز ) جو دنیا بھر میں قائم ہوئیں ان کی تعداد 32 تھی۔1985-86ء میں یہ تعداد 32 سے بڑھ کر 206 ہو گئی۔87-1986ء میں 136 نئی بیوت تعمیر ہوئیں۔بیوت الذکر کی تعمیر اور بنی بنائی بیوت کے عطا ہونے کی رفتار میں حیرت انگیز طور پر اضافہ ہوا جس کا اندازہ مندرجہ ذیل تین سالوں کے جائزہ سے 1524 1915 2570 لگایا جا سکتا ہے: 1999ء میں 2000ء میں 2001ء میں ہجرت کے 19 سالوں میں مجموعی طور پر کل 13065 نئی بیوت جماعت احمدیہ کو دنیا بھر میں قائم کرنے کی توفیق ملی۔( افضل 27 دسمبر 2003ء) تبلیغ کے میدان میں مبلغین نے ایسی مثالیں رقم کی ہیں جو دور اوّل کے صحابہ کے ساتھ انہیں ملاتی ہیں۔خلافت کے فیضان کو جو اصل میں نبوت کا ہی فیضان ہے عالم کل میں پھیلانے کے لئے مبلغین کو ہر قسم کی تکالیف جھیلنی پڑیں۔چنانچہ حضرت مولوی ظہور حسین صاحب رضی اللہ عنہ کو روس میں قید و بند کی صعوبتیں بھی بھگتنی پڑیں۔وہ اپنی آپ بیتی میں لکھتے ہیں کہ کئی دن تک وہ نہ رات کو سو سکے نہ دن کو اور مسلسل فاقے کرنے پڑے۔ان کے سامنے قید میں سور کا گوشت بھی رکھا جاتا جسے وہ کھا نہیں سکتے تھے اور محض پانی میں روٹی بھگو کر کھاتے۔ان کو قید میں رکھا گیا اور طرح طرح کی اذیتیں قید میں ان کو دی گئیں۔(آپ بیتی مجاہد بخارا) جب حضرت مولوی ظہور حسین صاحب رضی اللہ عنہ واپس ہندوستان تشریف لائے تو ایک اخبار نے لکھا کہ انہیں ” بے کسی اور بے بسی کی حالت میں۔۔۔بخارا کی طرف جانا پڑا وہ بھی دسمبر کے مہینہ میں۔جبکہ راستہ برف سے سفید ہو رہا تھا۔راستے میں روسیوں کے ہاتھ پڑ گئے۔جہاں آپ پر مختلف مظالم توڑے گئے۔قتل کی دھمکیاں دی گئیں۔بے رحمی سے مارا گیا۔کئی کئی دن سور کا گوشت ان کے سامنے رکھا گیا لیکن وہ سرفروش عقیدت جاده استقلال پر برابر قائم رہا۔کوئی شخص جو قید خانے میں انہیں دیکھنے آیا مولوی صاحب انہیں پیغام دینے لگ گئے اس طرح تقریباً چالیس اشخاص احمدی ہو گئے۔“ الفضل 23 جنوری 1984ء) دعوت الی اللہ کے میدان میں ایک باپ بیٹا کس طرح سرشام نظر آتے ہیں۔چنانچہ برطانیہ کے ایک 58 سالہ مخلص احمدی جو دل کے مریض ہیں ان کا بائی پاس کا آپریشن ہو چکا ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ: ایک دن میں نے اپنے جواں سال بیٹے کے مشورہ کے ساتھ یہ پروگرام بنایا کہ ہم دونوں باپ بیٹا سارا دن گھر گھر جا کر یہ پمفلٹ دیں گے۔چنانچہ مقررہ دن ہم نے مسلسل آٹھ گھنٹے یہ کام کیا اور پسینے سے شرابور ہو گئے اور تھکاوٹ بھی بہت ہوئی۔تاہم اسی روز رات کو خواب میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خليفة أمسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کی زیارت نصیب ہوئی جس سے دل و دماغ خوشی و مسرت سے معطر ہو گئے اور نہ صرف یہ کہ ہر قسم کی تھکاوٹ بھول گئی بلکہ اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا کہ خدا تعالیٰ نے اس طرح اپنی محبت اور رضا کا اظہار فرمایا ہے۔“ 66 574