مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 575 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 575

الفضل سالانہ نمبر 28 دسمبر 2001ء صفحہ 35) تبلیغ کے میدان میں جذبات و احساسات کی قربانی کی جو مثال مولانا رحمت علی صاحب اور ان کی اہلیہ نے رقم کی وہ اپنی مثال آپ ہے۔جماعت احمدیہ کی طرف سے مولانا رحمت علی صاحب کو انڈونیشیا بھجوایا گیا مگر جماعت احمدیہ کی غربت کا ان دنوں یہ حال تھا کہ مربی بھجوانے کے لئے تو پیسے جمع کر لئے جاتے مگر واپس بلانے کا خرچ مہیا نہیں ہوتا تھا۔چنانچہ مولانا کو بھی جب بھجوایا گیا تو سال پر سال گزر تے گئے لیکن جماعت کو یہ توفیق نہ مل سکی کہ انہیں اپنے بیوی بچوں سے ملنے کے لئے واپس بلائے۔ان کے بچے باپ کی محبت سے محروم یتیموں کی طرح پل کر بڑے ہونے لگے۔ایک دن ان کے سب سے چھوٹے بیٹے نے جو سکول میں تعلیم حاصل کر رہا تھا اپنی ماں سے پوچھا کہ اماں سکول میں سب بچے اپنے ابا کی باتیں کرتے ہیں اور جن کے ابا باہر ہیں وہ بھی آخر واپس آہی جاتے ہیں اور اچھی اچھی چیزیں اپنے بچوں کے لئے لاتے ہیں۔پھر یہ میرے ابا کہاں چلے گئے کہ واپس آنے کا نام ہی نہیں لیتے ؟ ماں یہ سن کر آبدیدہ ہو گئی اور جس سمت میں اس نے سمجھا کہ انڈونیشیا واقع ہے اس سمت میں انگلی اٹھا کر یہ کہا کہ بیٹا تمہارے ابا اس طرف خدا کا پیغام پہنچانے گئے ہیں اور اسی وقت واپس آئیں گے جب خدا کو منظور ہو گا۔اس عورت کے جواب میں درد تو تھا لیکن شکوہ نہیں تھا۔احساس بے اختیاری تو تھا لیکن احتجاج نہیں تھا کیونکہ وہ خود بھی قربانی کے جذبہ سے سرشار تھیں۔مولوی صاحب کو انڈونیشیا گئے ہوئے دس سال گزر چکے تھے۔جب آپ کو پہلی مرتبہ انڈونیشیا سے کچھ عرصہ کے لئے بلوایا گیا لیکن پھر جلد ہی انڈونیشیا بھجوایا گیا۔انڈونیشیا میں اپنے اہل و عیال سے الگ رہ کر تربیت میں جو وقت انہوں نے صرف کیا اس کا عرصہ 26 سال بنتا ہے۔بالآخر جماعت نے یہ فیصلہ کیا کہ اب ان کو مستقلاً واپس بلا لیا جائے تب ان کی بیوی جو اب بوڑھی ہو چکی تھی حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور بڑے درد سے یہ عرض کہا کہ دیکھیں جب میں جوان تھی تو اللہ ہی کی خاطر صبر کیا اور اپنے خاوند کی جدائی پر اُف تک نہ کی۔اپنے بچوں کو کسمپرسی کی حالت میں پالا پوسا اور جوان کیا۔اب جبکہ میں بوڑھی اور بچے جوان ہو چکے ہیں اب ان کو واپس بلانے سے کیا فائدہ؟ اب تو میری تمنا پوری کر دیجئے کہ میرا خاوند مجھ سے دور خدمت دین کی مہم ہی میں دیار غیر میں مر جائے اور میں فخر سے کہہ سکوں کہ میں نے اپنی تمام شادی شدہ زندگی دین کی خاطر قربان کر دی۔(ماہنامہ خالد ربوہ۔فروری 1988ء) جماعت کی تبلیغی سرگرمیوں کو ایک غیر احمدی دوست جناب علامه فتح نیاز پوری صاحب نے اس طرح سراھا ہے کہ:۔دوسرا معیار جس سے ہم کسی کی صداقت کو جان سکتے ہیں۔نتیجہ عمل ہے۔سواس بات میں احمدی جماعت کی کامیابی اس درجہ واضح اور روشن ہیں کہ اس سے ان کے مخالفین بھی اندار جرات نہیں کر سکتے۔اس وقت دنیا کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جہاں ان کی تبلیغی جماعتیں اپنے کام میں مصروف نہ ہوں اور انہوں نے خاص عزت و وقار نہ حاصل کر لیا ہو۔“ فیضان مهدی دوران صفحہ 216) کسی بھی نظام کو بہتر طور پر پروان چڑھانے کے لئے مضبوط منصوبہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے۔چنانچہ خلافت کا فیضان ہمیں مستحکم مرکزی اداروں کی صورت میں نظر آتا ہے۔چنانچہ حضرت خلیفہ اسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کے بابرکت دور خلافت میں جماعت کو بہت سارے پہلوؤں میں ترقی نصیب ہوئی۔یکم مارچ 1909 ء میں باقاعدہ طور پر مدرسہ احمدیہ کی بنیاد رکھی گئی۔بیت نور تعمیر ہوئی۔تعلیم الاسلام ہائی سکول اور اس کے بورڈنگ کی عظیم الشان عمارتیں تعمیر ہوئیں اسی طرح نور ہسپتال اور بیت اقصیٰ میں توسیع ہوئی۔(الفضل 24 مئی 2006ء) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے 1919 ء میں صدر انجمن احمدیہ میں نظارتوں کا نظام قائم فرمایا اور پھر تمام جماعتوں میں 575