مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 552 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 552

کی ناگہانی جدائی سے چالیس دن تک روتے رہے۔ایسا ہی حضرت عیسی علیہ السلام کے ساتھ معاملہ ہوا اور صلیب کے واقعہ کے وقت تمام حواری تتر بتر ہو گئے اور ایک ان میں سے مرتد بھی ہو گیا“ (رساله الوصیت صفحہ 7,6 روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 305,304) الوہیت، نبوت اور خلافت کا باہمی تعلق: خلافت نبوت کا ظل ہوتی ہے اور نبوت کے فیضان کو اپنے تئیں جذب کر کے تا قیامت برکات رسالت سے دنیا کو منور کرتی ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ” خلیفہ درحقیقت رسول کا ظل ہوتا ہے اور چونکہ کسی انسان کے لئے دائمی طور پر بقا نہیں لہذا خدا تعالیٰ نے ارادہ کیا کہ رسولوں کے وجود کو جو تمام دنیا کے وجودوں سے اشرف و اولی ہیں، ظلی طور پر ہمیشہ کیلئے تا قیامت قائم رکھے۔سو اس غرض سے خدا تعالیٰ نے خلافت کو تجویز کیا تا دنیا کبھی اور کسی زمانہ میں برکات رسالت سے محروم نہ رہے۔“ شہادت القرآن ، روحانی خزائن جلد 6 صفحه 353) اُلوہیت، نبوت اور خلافت باہم لازم و ملزوم ہیں۔نبوت کا مرجع فیض اُلوہیت ہے اور خلافت کا مرجع فیض نبوت ہے۔نبوت، الوہیت کے نور کو حاصل کر کے پھیلاتی ہے اور نبوت کے نور کو جو اصل میں اُلوہیت ہی کا نور ہوتا ہے، خلافت منعکس کرتی ہے۔گویا خلافت ایک ایسے ری فلیکٹر (Reflector) کا کام سر انجام دیتی ہے جس کا مقصد نبوت کے فیضان کو آگے پھیلانا ہوتا ہے۔چنانچہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سورۃ نور کی آیت نمبر 36 کی تفسیر کرتے ہوئے نورِ الوہیت کے ذکر میں فرماتے ہیں: نبوت میں یہ نور آکر مکمل تو ہو جاتا ہے لیکن اس کا زمانہ پھر بھی محدود ہوتا ہے کیونکہ نبی بھی موت سے محفوظ نہیں ہوتے۔پس اس روشنی کو دور تک پہنچانے کیلئے اور زیادہ دیر تک قائم رکھنے کے لئے ضروری تھا کہ کوئی اور تدبیر کی جاتی سو اللہ تعالیٰ نے اس کیلئے ری فلیکٹر (Reflector) بنایا جس کا نام خلافت ہے۔جس طرح طاقچہ تین طرف سے روشنی کو روک کر صرف اس جہت میں ڈالتا ہے جدھر اس کی ضرورت ہوتی ہے۔اسی طرح خلفا نبی کی قوت قدسیہ کو جو اس کی جماعت میں ظاہر ہو رہی ہوتی ہے ضائع ہونے سے بچا کر ایک خاص پروگرام کے ماتحت استعمال کرتے ہیں جس کے نتیجہ میں جماعت کی طاقتیں پراگندہ نہیں ہوتیں اور تھوڑی سی طاقت سے بہت سے کام نکل آتے ہیں کیونکہ طاقت کا کوئی حصہ ضائع نہیں ہوتا۔اگر خلافت نہ ہو تی تو بعض کاموں پر تو زیادہ طاقت خرچ ہو جاتی اور بعض کام توجہ کے بغیر رہ جاتے اور تفرقہ اور شقاق کی وجہ سے کسی مام کے ماتحت جماعت کا روپیہ اور اس کا علم اور اس کا وقت خرچ نہ ہوتا۔غرض خلافت کے ذریعہ سے سے الہی نور کو جو نبوت کے ذریعہ سے مکمل ہوتا ہے، ممتد اور لمبا کر دیا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔خلافت وہ ری فلیکٹر (Reflector) ہے جو نبوت اور الوہیت کے نور کو لمبا کر دیتا ہے اور اسے دور تک پھیلا دیتا ہے۔“ نظام (تفسیر کبیر جلد6،صفحہ 321-320) حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: مگر حقیقت یہ ہے کہ مذہب تو انبیاء کے ذریعہ سے قائم ہوتا ہے۔خلفا کے ذریعہ سنن اور طریقے قائم کئے جاتے ہیں۔ورنہ احکام تو انبیاء پر نازل ہو چکے ہوتے ہیں۔خلفا دین کی تشریح اور وضاحت کرتے ہیں اور مغلق امور کو کھول کر لوگوں کے سامنے بیان کرتے ہیں اور ایسی راہیں بتاتے ہیں جن پر چل کر اسلام کی ترقی 552