مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 553 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 553

ہوتی ہے۔“ ( افضل 4 ستمبر 1937 ء) حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: انبیاء علیہم السلام کے اغراض بعثت پر غور کرنے کے بعد یہ سمجھ لینا بہت آسان ہے کہ خلفا کا بھی یہی کام ہوتا ہے کیونکہ خلیفہ جو آتا ہے اس کی غرض یہ ہوتی ہے کہ اپنے پیش رو کے کام کو جاری کرے۔پس جو کام نبی کا ہو گا وہی خلیفہ کا ہو گا۔“ (منصب خلافت۔انوار العلوم جلد 2 صفحہ 24) حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ”اے دوستو! میری آخری نصیحت یہ ہے کہ سب برکتیں خلافت میں ہیں۔نبوت ایک بیج ہوتی ہے جس کے بعد خلافت اس کی تاثیر کو دنیا میں پھیلا دیتی ہے۔تم خلافت حقہ کو مضبوطی سے پکڑو اور اس کی برکات سے دنیا کو متمتع کرو اور میری اولاد کو بھی ان کے خاندان کے عہد یاد دلاتے رہو۔“ خلافت کا روحانی فیضان: (الفضل 20 مئی 1959 ء صفحہ 3) اللہ تعالیٰ قوموں کی اصلاح اور انہیں دین واحد پر قائم کرنے کے لئے انبیاء بھیجتا ہے جو ساری عمر نیک فطرت لوگوں کو توحید کی طرف کھینچتے ہیں۔انبیاء کے وصال کے بعد اللہ تعالی خلافت قائم کر کے اس سلسلہ کو جاری رکھتا ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: اور چاہئے کہ جماعت کے بزرگ جو نفس پاک رکھتے ہیں میرے نام پر میرے بعد لوگوں سے بیعت لیں۔خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ان تمام رُوحوں کو جو زمین کی متفرق آبادیوں میں آباد ہیں کیا یورپ اور کیا ایشیا، ان سب کو جو نیک فطرت رکھتے ہیں توحید کی طرف کھینچے اور اپنے بندوں کو دین واحد پر جمع کرے۔یہی خدا تعالیٰ کا مقصد ہے جس کے لئے میں دنیا میں بھیجا گیا۔سو تم اس مقصد کی پیروی کرو مگر نرمی اور اخلاق اور دعاؤں پر زور دینے سے اور جب تک کوئی خدا سے روح القدس پا کر کھڑا نہ ہو سب میرے بعد مل کر کام کرو۔“ (رساله الوصیت۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 306 تا 307) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد توحید کو قائم کرنے والے مشن (Mission) کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلفا نے خوب آگے بڑھایا اور مسلسل بڑھاتے چلے جا رہے ہیں۔دراصل نبوت کے قیام کا خاصہ ہی توحید کا قیام ہے جس کے ذریعہ سے دنیا کے سارے لوگ وصرت کی ایک لڑی میں پروئے جاتے ہیں۔نبوت کے اس فیضان کو خلفائے احمدیت جاری رکھے ہوئے ہیں۔چنانچہ حضرت خلیفہ اسیح الاوّل رضی اللہ عنہ نے 17 جنوری 1902 ء کو درس القرآن کے دوران احباب جماعت کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: اللہ جل شانہ کی سچی فرمانبرداری اختیار کرو۔اس کی اطاعت کرو۔اس سے محبت کرو۔اس کے آگے تذلل کرو۔اس کی عبادت کرو اور اللہ کے مقابل کوئی غیر تمہارا مطاع، محبوب، مطلوب، امیدوں کا مرجع نہ ہو۔اللہ کے مقابل تمہارے لئے کوئی دوسرا نہ ہو۔ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کا حکم تمہیں ایک طرف بلاتا ہو اور کوئی اور چیز خواہ وہ تمہارے نفسانی ارادے اور جذبات ہوں یا قوم اور برادری، سوسائٹی (Society) کے اصول اور دستور ہوں، سلاطین ہوں، امرا ہوں، ضرورتیں ہوں، غرض کچھ ہی کیوں نہ ہو، اللہ تعالیٰ کے حکم کے مقابل تم پر اثر 553