مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 551 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 551

ہیں۔یہ وہ عمل ہے جس کے ذریعہ خدا تعالیٰ اپنی خلافت دنیا میں قائم فرماتا ہے، جس کے ذریعہ ہر مومن خدا تعالیٰ کی خلافت کا امین ہو جاتا ہے۔پھر جب نبی اس دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو ہر مومن اس خلافت کی حفاظت اس شخص کے سپرد کرتا ہے جسے خدا تعالی نبی کا جانشین بناتا ہے۔اس طرح اس خلیفہ کے ذریعہ اس خلافت کی سرپرستی اور حفاظت ہوتی ہے جو نبوت کے ذریعہ مومنوں کے دل میں قائم ہوئی ہوتی ہے، چنانچہ مومنوں کی اس جماعت میں ایک خلیفہ کے ذریعہ خلافت کا نظام جاری ہو جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کی تائید اور اسکے جملہ وعدے اس خلافت کے حق میں پورے ہوتے ہیں۔خلافت بادی علی چودھری صفحہ 15) خلافت سنت الہیہ ہے: قیام خلافت دراصل نبوت کے فیضان کا پر تو ہے جو نبوت کے اختتام پر جلوہ گر ہو کر فیضان نبوت کو بڑھاتا اور پھیلاتا پرتو ہے۔چنانچہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں: یہ خدا تعالیٰ کی سنت ہے اور جب سے کہ اس نے انسان کو زمین میں پیدا کیا ہمیشہ اس سنت کو وہ ظاہر کرتا رہا ہے کہ وہ اپنے نبیوں اور رسولوں کی مدد کرتا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے : كَتَبَ اللَّهُ لَا غُلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي ا (مجادلہ: 22) اور غلبہ سے مراد یہ ہے کہ جیسا کہ رسولوں اور نبیوں کا یہ منشا ہوتا ہے کہ خدا کی حجت زمین پر پوری ہو جائے اور اس کا مقابلہ کوئی نہ کر سکے اسی طرح خدا تعالیٰ قومی نشانوں کے ساتھ ان کی سچائی ظاہر کر دیتا ہے اور جس راستبازی کو وہ دنیا میں پھیلانا چاہتے ہیں اس کی تخم ریزی انہیں کے ہاتھ سے کر دیتا ہے لیکن اس کی پوری تکمیل ان کے ہاتھ سے نہیں کرتا بلکہ ایسے وقت میں ان کو وفات دے کر جو بظاہر ایک ناکامی کا خوف اپنے ساتھ رکھتا ہے مخالفوں کو ہنسی اور ٹھیٹھے اور طعن اور تشنیع کا موقع دے دیتا ہے اور جب وہ ہنسی ٹھٹھا کر چکتے ہیں تو پھر ایک دوسرا ہاتھ اپنی قدرت کا دکھاتا ہے اور ایسے اسباب پیدا کر دیتا ہے جن کے ذریعہ سے وہ مقاصد جو کسی قدر ناتمام رہ گئے تھے اپنے کمال کو پہنچتے ہیں۔غرض دو قسم کی قدرت ظاہر کرتا ہے: اول خود نبیوں کے ہاتھ سے اپنی قدرت کا ہاتھ دکھاتا ہے۔دوسرے ایسے وقت میں جب نبی کی وفات کے بعد مشکلات کا سامنا پیدا ہو جاتا ہے اور دشمن زور میں آجاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اب کام بگڑ گیا اور یقین کر لیتے ہیں کہ اب جماعت نابود ہو جائے گی اور خود جماعت کے لوگ بھی تردد میں پڑ جاتے ہیں اور ان کی کمریں ٹوٹ جاتی ہیں اور کئی بدقسمت مرتد ہونے کی راہیں اختیار کر لیتے ہیں تب خدا تعالیٰ دوسری مرتبہ اپنی زبردست قدرت ظاہر کرتا ہے اور گرتی ہوئی جماعت کو سنبھال لیتا ہے۔پس وہ جو آخیر تک صبر کرتا ہے خدا تعالیٰ کے اس معجزہ کو دیکھتا ہے، جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے وقت میں ہوا جبکہ آنحضرت ملالہ کی موت ایک بے وقت موت سمجھی گئی اور بہت۔اور بہت سے بادیہ نشین نادان مرتد ہو گئے اور صحابہ بھی مارے غم کے دیوانہ کی طرح ہو گئے تب خدا تعالیٰ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو کھڑا کر کے دوبارہ اپنی قدرت کا نمونہ دکھایا اور اسلام کو نابود ہوتے ہوتے تھام لیا اور اس وعدہ کو پورا کیا جو فرمایا تھا : ولَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمُ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمَنَّا (النور: 56) یعنی خوف کے بعد پھر ہم ان کے پیر جمادیں گے۔ایسا ہی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں ہوا جبکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام مصر اور کنعان کی راہ میں پہلے اس سے جو بنی اسرائیل کو وعدے کے مطابق منزل مقصود تک پہنچاویں فوت ہو گئے اور بنی اسرائیل میں ان کے مرنے سے ایک بڑا ماتم برپا ہوا جیسا کہ توریت میں لکھا ہے کہ بنی اسرائیل اس بے وقت موت کے صدمہ سے اور حضرت موسیٰ 551