مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 55 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 55

عبید اللہ (حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے چھوٹے بیٹے) نے جا کر میرے باپ کو قتل کر دیا۔جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے مجھے بلایا اور عبید اللہ رضی اللہ عنہ کو پکڑ کر میرے حوالے کر دیا اور کہا کہ: اے میرے بیٹے ! یہ تیرے باپ کا قاتل ہے اور تو ہماری نسبت زیادہ حق رکھتا ہے۔پس جا اور اس کو قتل کر دے۔میں نے اس کو پکڑ لیا اور شہر سے باہر نکلا۔راستہ میں جو شخص مجھے ملتا میرے ساتھ ہو جاتا لیکن کو ئی شخص مقابلہ نہ کرتا۔وہ مجھ سے صرف اتنی درخواست کرتے تھے کہ میں اسے چھوڑ دوں۔پس میں نے سب مسلمانوں کو مخاطب کر کے کہا کیا میرا حق ہے کہ میں اس کو قتل کر دوں؟ سب نے کہا کہ ہاں تمہارا حق ہے کہ اسے قتل کر دو اور عبید اللہ رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہنے لگے کہ اس نے ایسا برا کام کیا ہے۔پھر میں نے دریافت کیا کہ کیا تم لوگوں کو حق ہے کہ اسے مجھ سے چھڑا لو؟ انہوں نے کہا کہ: ہرگز نہیں اور پھر عبید اللہ کو برا بھلا کہا کہ اس نے بلا ثبوت اس کے باپ کو قتل کر دیا۔اس پر میں نے خدا اور ان لوگوں کی خاطر اس کو چھوڑ دیا اور مسلمانوں نے فرط مسرت سے مجھے اپنے کندھوں پر اُٹھا لیا اور خدا تعالیٰ کی قسم میں اپنے گھر تک لوگوں کے سروں اور کندھوں پر پہنچا اور انہوں نے مجھے زمین پر قدم تک نہیں رکھنے دیا۔“ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت: ( تفسیر کبیر جلد نمبر 2۔صفحہ 359 تا360) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”جب یہ لوگ اندر پہنچے تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو قرآن کریم پڑھتے پایا ان حملہ آوروں میں محمد بن ابی بکر بھی تھے اور بوجہ اپنے اقتدار کے جو ان لوگوں پر ان کو حاصل تھا اپنا فرض سمجھتے تھے کہ ہر ایک کام میں آگے ہوں۔چنانچہ انہوں نے بڑھ کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی داڑھی پکڑ لی اور زور سے جھٹکا دیا۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کے اس فعل پر صرف اس قدر فرمایا کہ اے میرے بھائی کے بیٹے! اگر تیرا باپ (حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ) اس وقت ہوتا تو بھی ایسا نہ کرتا۔تجھے کیا ہوا تو خدا کے لیے مجھ پر ناراض ہے؟ کیا اس کے سوا تجھے مجھ پر کوئی غصہ ہے کہ تجھ سے میں نے خدا کے حقوق ادا کروائے ہیں؟ اس پر محمد بن ابی بکر شرمندہ ہو کر واپس لوٹ گئے لیکن دوسرے شخص وہیں رہے اور کیونکہ اس رات بصرہ کے لشکر کی میں داخل ہو جانے کی یقینی خبر آچکی تھی اور یہ موقع ان لوگوں کے لیے آخری موقع تھا ان لوگوں نے فیصلہ کر لیا کہ بغیر اپنا کام کئے واپس نہ لوٹیں گے اور ان میں سے ایک شخص آگے بڑھا اور ایک لوہے کی سیخ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے سر پر ماری اور پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے سامنے جو قرآن دھرا ہوا تھا اس کو لات مار کر پھینک دیا۔قرآن کریم لڑھک کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آگیا اور آپ رضی اللہ عنہ کے سر پر سے خون کے قطرات گر کر اس پر آپڑے قرآن کریم کی بے ادبی تو کسی نے کیا کرنی ہے مگر ان لوگوں کے تقویٰ اور دیانت کا پردہ اس واقعہ سے اچھی طرح فاش ہو گیا ہے۔جس آیت پر آپ کا خون گرا وہ ایک زبر دست پیشگوئی تھی جو اپنے وقت پر جا کر اس شان سے پوری ہوئی کہ سخت دل سے سخت دل آدمی نے اس کے خونی حروف کی جھلک کو دیکھ کر خوف سے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔وہ آیت یہ تھی : فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللهُ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (البقرة: 138) اللہ تعالٰی ضرور ان سے تیرا بدلہ لے گا اور بہت سننے والا اور جاننے والا ہے۔55