مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 54
2 ہمدردی خلق: ہیں: لکھا ترمذی کتاب الناقب میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مناقب کی ذیل میں کا ہے کہ: عُثْمَانُ فَقَالَ اَنْشُدُ كُمُ بِاللَّهِ وَالْإِسْلَامِ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ وَلَيْسَ بِهَامَاءٌ يُسْتَعْذَبُ غَيْرَ بِرِ رُوْمَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يَشْتَرِى بِتُرَرُوْمَةً فَيَجْعَلُ دَلْوَهُ مَعَ دِلَاءِ الْمُسْلِمِيْنَ بِغَيْرِ لَّهُ مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ فَشَرَيْتُهَا مِنْ صُلْبِ مَالِى سو متوجہ ہوئے ان کی طرف حضرت عثمان اور فرمایا آپ نے : میں تم کو واسطہ دیتا ہوں اللہ کا اور اسلام کا تم جانتے ہو کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ میں تشریف لائے تو یہاں میٹھا پانی پینے کو نہیں تھا سوا بـــر رومہ کے اور فرمایا رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے: جو اس بشر رومہ کو خریدے اور سب مسلمانوں کے برابر اپنا بھی ڈول سمجھے یعنی کچھ زیادہ تصرف اپنا نہ چاہے، چن لیا جائے گا بدلہ اس کا جنت سے۔سوخریدا میں نے اس کو اپنے اصل مال سے 66 3 عدل و انصاف ( ترمذی ابواب المناقب۔باب مناقب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ) حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عدل و انصاف کے بارے میں بیان کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ”چنانچہ طبری جلد 5 صفحہ 44 میں تماذبان ابن ہرمزان اپنے والد کے قتل کا واقعہ بیان کرتا ہے۔ہرمزان ایک ایرانی رئیس اور مجوسی المذہب تھا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ثانی کے قتل کی سازش میں شریک ہونے کا شبہ اس پر کیا گیا تھا، اس پر بلا تحقیق جوش میں آکر عبید اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو قتل کر دیا وہ کہتا ہے: كَانَتِ الْعَجَمُ بِالْمَدِينَةِ يَسْتَرُوحُ بَعْضُهَا إِلى بَعْضٍ فَمَرَّ فِيُرُوزُ بِأَبِي وَمَعَهُ، خَنْجَرْلَهُ رَأْسَانِ فَتَنَاوَلَهُ مِنْهُ، وَقَالَ مَا تَصْنَعُ بِهَذَا فِى هَذِهِ الْبِلَادِ؟ فَقَالَ أَبُسُ بِهِ فَرَاهُ رَجُلٌ فَلَمَّا أَصِيْبَ عُمَرُ قَالَ رَأَيْتُ هَذَا مَعَ الْهُرُ مَزَانِ دَفَعَهُ إلى فِيُرُوزَ فَأَقْبَلَ عُبَيْدُ اللهِ فَقَتَلَهُ فَلَمَّا وُلّى عُثْمَانُ دَعَانِى فَا مُكَتَنِي مِنْهُ ثُمَّ قَالَ يَا بُنَيَّ هَذَا قَاتِلُ أَبِيكَ وَانْتَ اولى بِهِ مِنَّا فَاذْهَبْ فَاقْتُلُهُ فَخَرَجْتُ بِهِ وَمَا فِي الْاَرْضِ اَحَدٌ إِلَّا مَعِى إِلَّا إِنَّهُمْ يَطْلُبُونَ إِلَيَّ فِيْهِ فَقُلْتُ لَهُمْ إِلَى قَتْلُهُ قَالُوا نَعَمْ وَسَبُّوْا عُبَيْدَ اللَّهِ فَقُلْتُ اَفَلَكُمْ أَنْ تَمْنَعُوَاهُ قَالُوْا لَا وَ سَبُّوْهُ فَتَرَكْتُهُ لِلَّهِ وَلَهُمْ فَلْتَمَلُوْنِي فَوَاللَّهِ مَا بَلَغُتُ الْمَنْزِلَ إِلَّا عَلَى رُءُ وُسِ الرِّجَالِ وَأَكُفِّهِمْ اس کا ترجمہ یہ ہے کہ ایرانی لوگ مدینہ میں ایک دوسرے کے ساتھ ملے جلے رہتے تھے (جیسا کہ قاعدہ ہے کہ دوسرے ملک میں جا کر وطنیت نمایاں ہو جاتی ہے ) ایک دن فیروز ( قاتل عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ثانی) سے ملا اور اس کے پاس ایک خنجر تھا جو دونوں طرف سے تیز کیا ہو ا تھا۔میرے باپ نے اس خنجر کو پکڑ لیا اور اس سے دریافت کیا کہ اس ملک میں تو اس خنجر سے کیا کام لیتا ہے (یعنی یہ ملک تو امن کا ملک ہے اس میں ایسے ہتھیاروں کی کیا ضرورت ہے) اُس نے کہا کہ: میں اس سے اُونٹ ہنکانے کا کام لیتا ہوں۔جب وہ دونوں آپس میں باتیں کر رہے تھے اس وقت ان کو کسی نے دیکھ لیا اور جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ مارے گئے تو اس نے بیان کیا کہ میں نے خود ہر مزان کو یہ خنجر فیروز کو پکڑاتے ہوئے دیکھا تھا۔اس پر باپ میرے 54