مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 526
انتظام منافقوں پر بہت گراں گزرے گا اور اس سے ان کی پردہ دری ہوگی اور بعد موت وہ مرد ہوں یا عورت اس قبرستان میں ہرگز دفن نہیں ہو سکیں گے۔فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزَادَهُمُ الله مَرَضًا لیکن اس کام میں سبقت دکھلانے والے راستبازوں میں شمار کئے جائیں گے اور اب تک خدا تعالیٰ کی ان پر رحمتیں ہوں گی۔بالآخر یہ بھی یاد رہے کہ بلاؤں کے دن نزدیک ہیں اور ایک سخت زلزلہ جو زمین کو تہ و بالا کر دے گا قریب ہے۔پس وہ جو معائنہ عذاب سے پہلے اپنا تارک الدنیا ہونا ثابت کر دیں گے اور نیز یہ بھی ثابت کر دیں گے کہ کس طرح انہوں نے میرے حکم کی تعمیل کی خدا کے نزدیک حقیقی مومن وہی ہیں اور اس کے دفتر میں سابقین، اولین لکھے جائیں گے اور میں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ زمانہ قریب ہے کہ ایک منافق جس نے دنیا سے محبت کر کے اس حکم کو ٹال دیا ہے وہ عذاب کے وقت آہ مار کر کہے گا کہ کاش! میں تمام جائیداد کیا منقولہ اور کیا غیر منقولہ خدا کی راہ میں دیتا اور اس عذاب سے بچ جاتا۔یاد رکھو! کہ اس عذاب کے معائنہ کے بعد ایمان بے سود ہو گا اور صدقہ خیرات محض عبث۔دیکھو! میں بہت قریب عذاب کی تمہیں خبر دیتا ہوں۔اپنے لئے وہ زاد جلد تر جمع کرو کہ کام آوے۔میں یہ نہیں چاہتا کہ تم سے کوئی مال لوں اور اپنے قبضہ میں کر لوں۔بلکہ تم اشاعتِ دین کے لئے ایک انجمن کے حوالے اپنا مال کرو گے اور بہشتی زندگی پاؤ گے۔بہتیرے ایسے ہیں کہ وہ دنیا سے محبت کر کے میرے حکم کو ٹال دینگے مگر بہت جلد دنیا سے جدا کئے جائیں گے تب آخری وقت میں کہیں گے: هَذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمَنُ وَصَدَقَ الْمُرْسَلُونَ۔“ وو 66 (رساله الوصیت روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 327 تا 329 ) حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا جماعت احمد یہ عالمگیر کو پیغام: پیارے احباب جماعت احمدیہ عالمگیر۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ الحمد للہ کہ الفضل انٹرنیشنل الوصیت نمبر شائع کر رہی ہے۔اللہ کرے کہ اس کے ذریعے سے جماعت کے ہر فرد کو نظام وصیت کی اہمیت اور برکات کا علم ہو جائے اور ان کے اندر نیک اور پاک تبدیلیاں پیدا ہوں۔سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے آنے کا مقصد یہ تھا کہ آپ کے ذریعہ ایک ایسی جماعت قائم ہو جو صرف دنیا پر ہی نہ ٹوٹی پڑے بلکہ اس کو آخرت کی بھی فکر ہو کہ مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو نا ہے اس لیے ایسے اعمال بجا لائے جائیں جو خاتمہ بالخیر کی طرف لے جانے والے ہوں۔آپ علیہ السلام نے اپنی ساری زندگی اس اہم کام میں صرف کی اور دین کو دنیا پر مقدم کرنے والے مخلصین کی ایک جماعت تیار کی۔دسمبر 1905 ء میں جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو بار بار یہ خبر دی کہ قَرُبَ اَجَلُكَ الْمُقَدَّرَ اور آپ کو ایک قبر دکھلائی گئی جو چاندی سے زیادہ چمکتی تھی اور اس کی تمام مٹی چاندی کی تھی اور بتایا گیا کہ یہ آپ کی قبر ہے، نیز آپ کو ایک اور جگہ دکھلائی گئی جس کا نام بہشتی مقبرہ رکھا گیا تو الہی اشاروں پر آپ کے ذہن میں ایک ایسے قبرستان کی تجویز آئی جو جماعت کے ایسے پاک دل لوگوں کی خواب گاہ ہو جنہوں نے درحقیقت دین کو دنیا پر مقدم کر لیا اور جنہوں نے دنیا کی محبت چھوڑ دی اور خدا کے لیے ہو گئے اور نیکیوں پر قدم مارنے والے گئے اور ایسی پاک تبدیلی اپنے اندر پیدا کر لی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی طرح وفاداری اور صدق کا نمونہ دکھلایا۔چنانچہ آپ نے فرمایا کہ: تمام جماعت میں سے اس قبرستان میں وہی مدفون ہو گا جو یہ وصیت کرے جو اس کی موت کے بعد دسواں بن۔وو 526