مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 527
527 حصہ اس کے تمام ترکہ کا حسب ہدایت اس سلسلہ کے اشاعت اسلام اور تبلیغ احکام قرآن میں خرچ ہو گا۔“ اس طرح آپ نے مالی قربانی کا ایک ایسا اہم نظام جاری فرمایا جو آپ کے ماننے والوں کے لیے تزکیہ نفس کا بھی ذریعہ ہو، اس سے اللہ تعالیٰ کے دین کی اشاعت بھی ہو اور حقوق العباد کے سامان بھی ہوں جیسا کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا: ان اموال میں ان یتیموں اور مسکینوں اور نو مسلموں کا بھی حق ہو گا جو کافی طور پر وجوہ معاش نہیں رکھتے اور سلسلہ احمدیہ میں داخل ہیں۔“ پ نے اپنی جماعت کے افراد کو اس مالی نظام میں شامل ہونے کی یوں تلقین فرمائی کہ تم اس وصیت کی تکمیل میں میرا ہاتھ بٹاؤ۔وہ قادر خدا جس نے پیدا کیا ہے دنیا اور آخرت کی مرادیں دے دے گا۔عذا پھر آپ نے فرمایا: ”بلاؤں کے دن نزدیک ہیں اور ایک سخت زلزلہ جو زمین کو تہ و بالا کر دے گا قریب ہے۔پس وہ جو معائنہ اپنا تارک الدنیا ہونا ثابت کر دیں گے اور نیز یہ ثابت کر دیں گے کہ کس طرح انہوں نے کی تعمیل کی خدا کے نزدیک حقیقی مومن وہی ہیں اور اس کے دفتر میں سابقین ،اولین لکھے جائیں میں یہ نہیں چاہتا کہ تم سے کوئی مال لوں اور اپنے قبضہ میں کر لوں بلکہ تم اشاعتِ دین کے لیے ایک انجمن کے حوالے اپنا مال کرو گے اور بہشتی زندگی پاؤ گے۔“ نیز فرمایا:۔”خدا کی رضا کو تم کسی طرح پاہی نہیں سکتے جب تک تم اپنی رضا چھوڑ کر، اپنی لذات چھوڑ کر، اپنی عزت چھوڑ کر، اپنا مال چھوڑ کر، اپنی جان چھوڑ کر اس کی راہ میں وہ سخی نہ اٹھا لو گے (یعنی اس نظام وصیت میں شامل ہو جاؤ گے اس کے تقاضوں کو پورا کرنے کی دل و جان سے کوشش کرتے رہو گے ) تو ایک پیارے بچے کی طرح خدا کی گود میں آجاؤ گے اور ہر ایک نعمت کے دروازے تم پر کھولے جائیں گے تمہیں خوشخبری ہو کہ قرب پانے کا میدان خالی ہے، ہر ایک قوم دنیا سے پیار کر رہی ہے اور وہ بات جس سے خدا راضی ہو اس کی طرف دنیا کو توجہ نہیں۔وہ لوگ جو پورے زور سے اس دروازہ میں داخل ہونا چاہتے ہیں۔ان کے لیے موقع ہے کہ اپنے جوہر دکھلائیں اور خدا سے خاص انعام پاویں۔“ پس میرا تمام دنیا کے احمدیوں کے لیے یہ پیغام ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ان ارشادات میں آپ کی خواہشات کے تابع آگے بڑھیں اور مالی قربانی کے اس نظام میں شامل ہو جائیں۔اپنی اصلاح کی خاطر اور اپنے انجام بالخیر کی خاطر اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے قدم آگے بڑھائیں اور اس کی جنتوں کے وارث بنیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ان برگزیدہ لوگوں کی قبریں بھی دکھائی گئیں جو اس نظام میں شامل ہو کر بہشتی ہے ہیں۔خدا نے آپ کو فرمایا کہ: ہو یہ بہشتی مقبرہ ہے بلکہ یہ بھی فرما که : اُنْزِلَ فِيْهَا كُلُّ رَحْمَةٍ یعنی ہر ایک قسم کی رحمت اس قبرستان میں اُتاری گئی ہے۔" پس جیسا کہ میں نے کہا ہے اس نظام میں پوری مستعدی کے ساتھ شامل ہوں۔جو خود شامل ہیں وہ اپنے بیوی بچوں کو اور دوسرے عزیزوں کو بھی اس میں شامل کرنے کی کوشش کریں اور خدا کے مسیح کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے قربانیوں کے اعلیٰ معیار قائم کریں۔میں اپنی اس خواہش کا اظہار پہلے بھی ایک موقع پر کر چکا ہوں کہ 2008 ء میں جب خلافت احمدیہ کو قائم ہوئے انشاء اللہ سوسال پورے ہو جائیں گے تو دنیا کے ہر ملک میں،