مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 525 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 525

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے ایک پیش گوئی فرمائی تھی کہ : ” اُس وقت میرا قائم مقام قادیان سے کہے گا کہ نیا انظام الوصیت میں موجود ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی یہ پیش گوئی ظاہری رنگ میں بھی 28 دسمبر 1991 کو حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے ذریعہ اس طرح پوری ہوئی جب حضرت خلیفۃ اُمسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے نظام وصیت کے ایک بنیادی حصہ اقوام متحدہ کے نئے قیام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ”انسانیت کو مصیبتوں سے بچانے کے لئے قادیان کا جلسہ ایک نمونہ ہے جہاں تمام قومیں سچے دل کے ساتھ، محبت کے ساتھ ایک ہوتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں، جہاں انگریز احمدی مسلمان ہو یا امریکن احمدی مسلمان ہو، جرمن احمدی مسلمان ہو یا ہندوستانی احمدی مسلمان ہو اپنے درمیان سے سب فرق مٹتے ہوئے دیکھتے ہیں۔پس اگر حقیقت میں دنیا میں اقوام متحدہ کی بنیاد رکھی جانی ہے تو میں خدا کی قسم کھا کر آپ کو کہتا ہوں کہ یہ وہ سر زمین ہے جہاں آئندہ اقوام متحدہ کی بنیاد رکھی جائے گی۔“ مومن اور منافق میں فرق کرنے والا نظام : اختتامی خطاب جلسہ سالانہ قادیان 28 دسمبر 1991 ) نظام وصیت ایک ایسا نظام ہے جو دراصل مومن اور منافق میں تفریق پیدا کرنے والا نظام ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: دد ممکن ہے کہ بعض آدمی جن پر بدگمانی کا مادہ غالب ہو، وہ اس کاروائی میں ہمیں اعتراضوں کا نشانہ بناویں اور اس انتظام کو اغراض نفسانیہ پر مبنی سمجھیں یا اس کو بدعت قرار دیں لیکن یاد رہے کہ خدا تعالیٰ کے کام میں وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔بلا شبہ اس نے ارادہ کیا ہے کہ اس انتظام سے منافق او رمومن میں تمیز کرے او رہم خود محسوس کرتے ہیں کہ جو لوگ اس الہی انتظام پر اطلاع پاکر بلا توقف اس فکر میں پڑتے ہیں کہ دسواں حصہ کل جائیداد کا خدا کی راہ میں دیں بلکہ اس سے زیادہ اپنا جوش دکھلاتے ہیں وہ اپنی ایمانداری پر مہر لگا دیتے ہیں۔کیا لوگ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔الم- أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ۔(سورة العنكبوت:2) یہ گمان کرتے ہیں کہ میں اسی قدر پر راضی ہو جاؤں کہ وہ کہہ دیں کہ ہم ایمان لائے اور ابھی ان کا امتحان نہ کیا جائے؟ اور یہ امتحان تو کچھ بھی چیز نہیں۔صحابہ رضی اللہ عنہم کا امتحان جانوں کے مطالبہ پر کیا گیا اور انہوں نے اپنے سرخدا کی راہ میں دیئے۔پھر ایسا گمان کہ کیوں یونہی عام اجازت ہر ایک کو نہ دی جائے کہ وہ اس قبرستان میں دفن کیا جائے کس قدر دور از حقیقت ہے۔اگر یہی روا ہو تو خدا تعالیٰ نے ہر ایک زمانہ میں امتحان کی کیوں بنیاد ڈالی؟ وہ ہر ایک زمانہ میں چاہتا رہا ہے کہ خبیث اور طیب میں فرق کر کے دکھلاوے اس لئے اب بھی اس نے ایسا ہی کیا۔خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بعض خفیف امتحان بھی رکھے ہوئے تھے جیسا کہ یہ بھی دستور تھا کہ کوئی شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی قسم کا مشورہ نہ لے جب تک پہلے نذرانہ داخل نہ کرے۔پس اس میں بھی منافقوں کے لئے ابتلا تھا۔ہم خود محسوس کرتے ہیں کہ اس وقت کے امتحان سے بھی اعلیٰ درجہ کے مخلص جنہوں نے درحقیقت دین کو دنیا پر مقدم کیا ہے دوسرے لوگوں سے ممتاز ہو جائیں گے اور ثابت ہو جائے گا کہ بیعت کا اقرار انہوں نے پورا کر کے دکھلا دیا اور اپنا صدق ظاہر کر دیا۔بے شک 525