مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 457
کس قدر جلد سے جلد ممکن ہو ہندوستانی مشنری کو اندرون ملک میں داخلے کی اجازت دے دی جائے۔چنانچہ حکام نے بھی آ۔آپ کے امریکہ داخل ہونے کا فیصلہ کر دیا ور حضرت مفتی صاحب نے نیویارک میں داخل ہو سکے ایک مکان کا حصہ لیکچروں اور دفتر کے لئے کرایہ پر لے کر تبلیغ اسلام کا کام شروع کر دیا اور سعید روحیں حلقہ بگوش اسلام ہونے لگیں۔اس کے بعد آپ نے ڈیٹرائٹ میں چند ماہ قیام فرمایا اور عرب آبادی میں خاص طور پر پیغام حق پہنچایا۔1921ء میں آپ شکاگو (Chicago) منتقل ہو گئے۔وہاں آپ نے ایک عمارت خرید کر امریکہ مشن کا مرکز قائم کیا دی مسلم سن رائزر کے نام سے ایک سہ ماہی رسالہ بھی جاری کیا حضرت مفتی صاحب ( جو امریکہ میں آج تک ڈاکٹر صادق کے نام سے یاد کئے جاتے ہیں) 4 دسمبر 1923ء کو قادیان واپس آ گئے اور امریکہ کا چارج حضرت مولوی محمد الدین صاحب نے سنبھال لیا۔احمد یہ مشن ہاؤس لنڈن: ) تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 249 تا 251) حضرت چودھری فتح محمد صاحب سیال ایم اے پہلے بیرونی مشن کی بنیاد تو جولائی 1913ء میں رکھ چکے تھے لیکن اس کا مستقل اور ممتاز صورت میں قیام دراصل اپریل 1914ء میں ہوا جب کہ آپ دوکنگ چھوڑ کر لنڈن تشریف لے آئے اور یہاں کرائے کے ایک مکان کو مرکز بنا کر تبلیغ اسلام کا کام شروع کر دیا۔پہلا شخص جو آپ کے ہاتھ پر اسلام میں داخل ہوا ایک صحافی کوریو ( Mr۔Coriao) نامی تھا۔چودھری صاحب کی واپسی تک ( جو مارچ 1916 ء میں ہوئی ) قریباً ایک درجن انگریز مسلمان ہو چکے تھے مشن کے اس ابتدائی دور میں آپ کی تبلیغ زیادہ تر لیکچروں کے ذریعہ ہوئی جو انہوں نے مختلف کلبوں اور سوسائٹیوں میں ئے۔6 ستمبر 1915ء کو حضرت قاضی محمد عبداللہ صاحب بی اے بی ٹی انگلستان تشریف لے گئے۔حضرت قاضی صاحب پورے چار سال تک وہاں اعلائے کلمۃ اللہ میں مصروف رہے پہلی جنگ عظیم کی وجہ سے آپ کو کئی پریشانیوں اور تکالیف کا سامنا بھی کرنا پڑا مگر آپ نے لڑیچر اور خطوط کے ذریعہ سے اپنی کوششیں برابر جاری رکھیں۔آپ ابھی انگلستان ہی میں تھے کہ حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے 10 مارچ 1917ء کو روانہ ہو کر اپریل 1917ء میں ساحل انگلستان پر قدم رکھا۔حضرت مفتی صاحب یہاں کچھ عرصہ قیام فرمانے اور حضرت قاضی صاحب کا ہاتھ بٹانے کے بعد 1920 ء کے شروع میں امریکہ تشریف لے گئے اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حکم سے چودھری فتح محمد صاحب سیال حضرت مولوی عبدالرحیم صاحب نیر کے ساتھ دوبارہ 15 جولائی 1919 ء کو عازم انگلستان ہوئے اور 6/اگست 1919ء کو لندن پہنچے۔چودھری صاحب نے گزشتہ تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تبلیغ کے کام میں اور زیادہ وسعت دی اور مسجد کے لئے بڑی جدوجہد کے بعد لنڈن کے محلہ پٹنی ساؤتھ فیلڈ میں ایک یہودی سے زمین کا ایک قطعہ مع مکان بائیس سو سینتیس پونڈ میں خرید لیا۔اگست 1920ء کا واقعہ ہے اسی ماہ مولوی مبارک علی صاحب بی اے بنگالی قادیان سے انگلستان کے لئے روانہ ہوئے اور 18 ستمبر 1920ء کو لنڈن پہنچے۔چند ماہ بعد حضرت مولوی عبدا لرحیم نیر فروری 1921ء میں نائیجیریا روانہ ہوگئے اور چودھری صاحب مولوی مبارک علی صاحب چارج دے کر ستمبر 1921ء میں قادیان واپس آگئے۔حضرت مولوی عبدالرحیم صاحب نیر نے سیرالیون، گولڈ کوسٹ (غانا ) اور نائیجیریا میں مشن قائم کرنے کے بعد واپس آکر لنڈن مشن کا چارج لے لیا۔حضرت مولوی عب الرحیم نیر صاحب کے دور میں ہی حضرت امیر المؤمنین خلیفة امسیح الثانی بنفس نفیس ویمبلے کانفرنس میں شرکت کے لئے تشریف لے گئے اور اپنے دست مبارک سے 19 اکتوبر 1924ء کو مسجد فضل لندن کا سنگ بنیاد 457