مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 456 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 456

کے خواب دیکھ تھے۔چنانچہ مسٹر جان ہنری بیروز (John Henry Berose) نے گزشتہ صدی کے نصف آخر میں کہا تھا کہ ہے صلیب کی چمکار آج ایک طرف لبنان پر ضو افگن ہے تو دوسرے طرف فارس کے پہاڑوں کی چوٹیاں اور باسفورس کا پانی اس کی چمک سے جگمگا رہا ہے یہ صورت حال پیش خیمہ ہے اس آنے والے انقلاب کا جب قاہرہ دمشق اور تہران کے شہر خداوند یسوع مسیح کے خدام سے آباد نظر آئیں گے۔حتی کہ صلیب کی چہکار صحرائے عرب کے سکوت کو چیرتی ہوئی وہاں بھی پہنچے گی۔اس وقت خداوند یسوع اپنے شاگردوں کے ذریعہ مکہ کے شہر اور خاص کعبہ کے حرم میں داخل ہو گا۔سمندر یہ حالات تھے جن میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے حضرت مفتی محمد صادق صاحب کو جو اس وقت انگلستان میں تھے امریکہ چلے جانے کا حکم صادر فرمایا۔آپ 26 جنوری 1920ء کو انگلستان کی بندرگاہ لیور پول سے روانہ ہوئے اور پندرہ فروری 1920ء کو امریکہ کی بندر گاہ فلاڈلفیا پر اُترے لیکن شہر کے اندر داخل نہ ہو سکے کیونکہ راہداری کے انسپکٹر نے کئی گھنٹے پوچھ کچھ کے بعد صرف اس وجہ سے کہ آپ ایک ایسے مذہب کے داعی او مبلغ تھے جو تعدد ازدواج کی اجازت دیتا ہے۔آپ کو ملک میں داخل ہونے کی اجازت نہ دی گئی اور فیصلہ کیا کہ آپ جس جہاز میں آئے ہیں اس میں واپس چلے جائیں۔حضرت مفتی صاحب نے اس فیصلہ کے خلافت محکمہ آباد کاری (واشنگٹن۔Washington D۔C) میں اپیل کی۔اپیل کے فیصلہ تک آپ کو کے کنارے ایک مکان میں بند کر دیا گیا جس سے باہر نکلنے کی ممانعت تھی مگر چھت پر ٹہل سکتے تھے اس کا دروازہ دن میں صرف دو مرتبہ کھلتا تھا جبکہ کھانا کھلایا جاتا تھا۔اس مکان میں کچھ یورپین بھی نظر بند تھے جو عموماً نوجوان تھے اور پاسپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے اس وقت تک کے لئے یہاں نظر بند کر دیئے گئے تھے جب تک حکام کی طرف سے ان کے متعلق کوئی فیصلہ ہو یہ لوگ حضرت مفتی صاحب کا بڑا ادب کرتے تھے اور ان کی ضروریات کا خیال رکھتے تھے ان کیلئے نماز پڑھنے کی جگہ بھی انہوں نے بنا دی تھی اور برابر خدمت کرتے رہتے تھے حضرت مفتی صاحب نے موقع فائدہ اُٹھا کر ان نوجوانوں ہی کو تبلیغ کرنا شروع کر دی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دو ماہ کے اندر پندرہ آدمی اسی مکان میں مسلمان ہوئے۔ادھر یہ صورت ہوئی ادھر آپ کی شہرت کا غیبی سامان یہ ہوا کہ امریکن پریس نے آپ کی آمد اور ملک میں داخلے میں ممانعت کا بہت چرچا کیا اور بعض مشہور ملکی اخبارات مثلاً فلاڈلفیا ریکارڈ پبلک ریکارڈ نارتھ امریکن بلیٹن ایونگ بلیٹن پبلک لیجر ”دی پریس نے نہ صرف آپ کی آمد کے بارے میں خبر دی بلکہ جماعت احمدیہ کے حالات بھی شائع کئے۔سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے امریکی حکومت کے اس رویہ پر سخت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: دو ނ ' امریکہ (۔U۔S۔A) جسے طاقتور ہونے کا دعوی ہے اس وقت تک اس نے مادی سلطنتوں کا مقابلہ کیا اور انہیں شکست دی ہو گی۔روحانی سلطنت سے اس نے مقابلہ کر کے نہیں دیکھا اب اگر اس نے ہم سے مقابلہ کیا تو اسے معلوم ہو جائے کہ ہمیں وہ ہر گز شکست نہیں دے سکتا کیونکہ خدا ہمارے ساتھ ہے ہم امریکہ کے ارد گرد علاقوں میں تبلیغ کریں گے اور وہاں کے لوگوں کو مسلمان بنا کر امریکہ بھیجیں گے اور ان کو امریکہ نہیں روک سکے گا اور ہم امید رکھتے ہیں کہ امریکہ میں ہر دن لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی صدا گونجے گی اور ضرور گونجے گی۔آخر شروع مئی 1920 ء میں امریکی حکومت کی طرف سے حضرت مفتی محمد صادق صاحب سے پابندی اٹھا لی گئی جس کی فوری وجہ یہ ہوئی کہ حضرت مفتی صاحب کو تبلیغ سے کئی انگریزوں کے مسلمان ہونے کی خبر جب متعلقہ محکمہ کے افسر کو پہنچی تو وہ بہت گھبرایا اور سوچنے لگا کہ اس طرح تو یہ آہستہ آہستہ نظر بند نوجوانوں کو مسلمان کر لیں گے اور جب شہر کے پادری صاحبان کو اس کا علم ہو گا تو وہ سخت ناراض ہوں گے اور شہر کی پبلک میرے خلاف ہو جائے گی اس پر اس نے اعلیٰ افسروں کو تار دے کہ 456