مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 375 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 375

تہجدوں میں اٹھ کر گریہ و زاری کرتے ہیں اور اس کثرت سے دعاؤں کے خط آتے ہیں کہ دعا کریں ہمارے لئے اللہ ہمیں شہادت نصیب کرے اور ہر طرف سے، گزشتہ کچھ عرصہ سے خاندان مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے بچوں کی طرف سے بھی بڑے درد ناک خط آرہے ہیں کہ یہ دعا کریں اور ہمیں وعدہ دیں اپنا کہ جب آپ نے جان کی قربانی کا مطالبہ کیا تو پہلے ہمیں موقع دیں گے دوسروں کو بعد میں دیں گے کیونکہ حضرت مسیح موعود کے خاندان کا یہ بھی حق ہے کہ وہ قربانی کے ہر میدان میں آگے آئے۔چنانچہ دہنی طور علیہ پر الصلوة والسلام میں تیار ہوں اور میں نے بعض عہد کر لئے ہیں انشاء اللہ تعالیٰ ان نوجوان بچوں کا اخلاس ضائع نہیں جائے گا لیکن ساری جماعت کا یہ حال ہے پاکستان کی ، بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم تو حیران ہیں کہ ایسا معجزہ ہم نے کبھی زندگی میں سوچا بھی نہیں تھا کہ یہ ظاہر ہو گا۔وہ لوگ نہایت بیچارے جن کو ہم رڈی سمجھتے تھے اس قدر جوش اور محبت اور اخلاص کے ساتھ جان دینے کے لئے تڑپ رہے ہیں کہ صرف ایک اشارے کی ضرورت ہے۔تو یہ جماعت کوئی مٹنے والی جماعت تو نہیں ہے۔کون دنیا کی طاقت ہے جو ایسی جماعت کو مٹا سکے جو ہر ظلم کے وقت زیادہ روشن ہوتی چلی جائے، ہر اندھیرے پر اس کو نیا نور خدا کی طرف سے عطا ہو۔چنانچہ باہر کی جماعتوں میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہی اخلاص، یہی جذبہ " د 66 (خطبات طاہر جلد 3 صفحہ 287 288 ) (ماہنامہ خالد سیدنا طاہر نمبر 2004 ) چودھری حمید اللہ صاحب وکیل اعلیٰ تحریک جدید بیان کرتے ہیں: 28 اپریل 1984ء کو (اگلے دن حضور نے ہجرت فرمائی تھی) مسجد مبارک ربوہ میں ایک نماز کے بعد حضرت خليفة أصبح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے احباب جماعت کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔میں نے آپ کو یہاں اس لئے نہیں بٹھایا کہ میں نے کوئی تقریر کرنی ہے۔میں نے آپ کو دیکھنے کے لئے بٹھایا ہے۔میری آنکھیں آپ کو دیکھنے سے ٹھنڈک محسوس کرتی ہیں۔میرے دل کو تسکین ملتی ہے۔مجھے آپ سے پیار ہے، عشق ہے۔خدا کی قسم کسی ماں کو بھی اس قدر پیار نہیں ہو سکتا۔“ محترم ڈاکٹر مسعود الحسن نوری صاحب بیان کرتے ہیں: جس روز حضور رحمہ اللہ تعالیٰ ہسپتال سے گھر تشریف لائے اسی رات میں نے واپس پاکستان آنا تھا تو میں اجازت لینے کے لئے حضور رحمہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہوا۔حضور نے فرمایا ذرا بیٹھو میں نماز ادا کر لوں تو میں نے کمرہ کے باہر بیٹھ کر انتظار کیا۔حضور نے دس پندرہ منٹ میں نماز پڑھی اس کے بعد جب میں حضور کے کمرہ میں داخل ہوا تو میں نے دیکھا کہ حضور رحمہ اللہ کا چہرہ سرخ تھا آنکھیں سوجی ہوئی تھیں اور آ میں وہ نمی تھی جس کو حضور لوگوں سے چھپایا کرتے تھے اور حضور کے چہرے پر جذبہ تشکر غالب تھا۔اس بات کا اندازہ شاید حضور کو خود تھا یا پھر دیکھنے والا بتا سکتا تھا اور میں اس بات کا اندازہ اس لئے بھی خاص طور پر کر سکتا تھا کہ ان بیماری کے دنوں میں کئی کئی گھنٹے حضور کے پاس خادم کے طور پر بیٹھا رہا اور اس بات کا کئی مرتبہ مشاہدہ کیا۔کیونکہ اس آپریشن کے وقت کی اور بعد کی تمام کیفیات میں حضور پر خدا کے شکر کا جذبہ غالب تھا اور دوسرا اس جماعت کیلئے شکر کا احساس بھی تھا جو دن رات تڑپ تڑپ کر اپنے پیارے آقا کیلئے دعائیں کر رہی تھی اور صدقات دے رہی تھی۔اس بات کا اتنا اثر حضور رحمہ اللہ تعالیٰ پر ہوتا تھا کہ کئی مرتبہ کئی منٹ اور اور کئی کئی گھنٹے خاموش ہوتے اور سے آنسو رواں ہوتے کیونکہ آپ کی طبیعت میں یہ بات داخل تھی کہ جماعت کے لوگ ان کے لئے آنکھوں آنکھوں 375