مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 376
جو دعائیں کر رہے ہیں، جو صدقات دے رہے ہیں، تو اس کو وہ احسان سمجھتے تھے اور کسی معمولی سی بات پر بھی حضور بہت جلد احسان مند ہو جایا کرتے تھے۔ایک طرف تو جماعت کے کروڑوں لوگ جو حضور کے لئے مسلسل دعائیں کر رہے تھے اور دوسری طرف یہ عالم تھا کہ ان چاہنے والوں کی دعاؤں کے نتیجہ میں ان کے پیارے امام اپنے دل میں یہ احساس لئے بیٹھے تھے کہ میرے چاہنے والوں کو میری وجہ سے کتنا دکھ پہنچ رہا ہے اور یہ احساس کہ دعا کرنے والا ایک نہیں۔دو نہیں لاکھوں نہیں کروڑوں ہیں تو حضور اس کا اپنے دل پر اور دماغ پر بہت زیادہ بوجھ لیتے تھے اور مجھے یہ گھبراہٹ ہوتی تھی کہ میڈیکل سائنس کے حوالہ سے اگر سوچا جائے کہ ایک انسان اپنے دماغ اور دل پر اس بیماری کی حالت میں اتنا بوجھ ڈالے تو اگر خدا کا فضل نہ ہو اور وہ نہ بچائے تو انسان کا دماغ، دل یا اعضاء shatter ہو جائیں۔مکرم (ماہنامہ خالد سیدنا طاہر نمبر 204 ، 344,343 ) عبدالماجد طاہر صاحب ایڈیشنل وکیل التبشیر بیان کرتے ہیں: ”جب لائبیریا (Liberia) کے حالات خراب ہوئے اور وہاں باغیوں نے بعض علاقوں پر بھر پور حملہ کر کے ان پر قبضہ کر لیا تو اس وقت ہمارے مشنری مکرم شیخ محمد یونس صاحب جس علاقہ میں تھے وہ بھی باغیوں کے قبضہ میں آ گیا اور وہاں بہت قتل و غارت ہوئی۔رابطے بالکل کٹ گئے۔انتہائی پریشان کن صورتحال تھی۔حضور رحمہ اللہ بہت فکر مند تھے اور بار بار دریافت فرماتے تھے کہ کوئی اطلاع آئی ہے۔خاکسار عرض کرتا کہ حضور (رحمہ اللہ ! کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں ہو رہا اور کچھ پتہ نہیں چل رہا۔حضور انور نے اسی وقت صدقہ کیلئے رقم نکال کر دی اور فرمایا: ہارون جالو (Haroon Jalow) صاحب کیلئے بھی صدقہ نکالا تھا اور وہ مل گئے تھے۔اب اللہ کے فضل سے یہ بھی انشاء اللہ مل جائیں گے۔چنانچہ قریباً دو ہفتہ بعد سیرالیون (Sierra Leone) سے اطلاع ملی که مکرم شیخ یونس صاحب انتہائی کسمپرسی کی حالت میں لائبیریا کا بارڈر پار کر کے سیرالیون پہنچ گئے ہیں اور خیریت سے ہیں۔جب حضور انور رحمہ اللہ کی خدمت میں یہ اطلاع پہنچائی گئی تو آپ کا چہرہ مبارک خوشی تمتما اٹھا اور فرمایا: الحمد للہ، ماشاء اللہ مبارک ہو۔“ دو (ماہنامہ خالد سیدنا طاہر نمبر 2004ءصفحہ 99 ) مکرم عبدالماجد طاہر صاحب ایڈیشنل وکیل التبشیر تحریر کرتے ہیں: 1993 ء میں حضور اپنے دورہ ماریشس (Mauritius) کے دوران ایک دن کیلئے جزیرہ روڈرگ (Rodrigues) تشریف لے گئے۔یہ علیحدہ جزیرہ ماریشس کا ہی حصہ ہے اور ماریشس کے نیشنل ائر پورٹ سے اس جزیرہ تک پون گھنٹہ کی فلائٹ ہے۔جماعت ماریشس نے جہاز کا بڑا حصہ ریزرو کروالیا تھا جس میں سب اپنے ہی ممبران تھے۔35,30 کے قریب خدام و انصار اس سفر میں ساتھ تھے۔حضور کے ساتھ والی سیٹ خالی تھی۔دوران سفر ماریشس جماعت کے یہ ساتھ سفر کر نیوالے احباب باری باری حضور کے ساتھ بیٹھتے۔ویڈیو تیار ہوتی اور تصاویر کھینچی جاتیں اور حضور سے باتیں کرتے۔اس پون گھنٹہ کی فلائٹ میں ہر ایک نے باتیں کرتے۔اس پون گھنٹہ کی فلائٹ میں ہر ایک نے حضور کے ساتھ بیٹھ کر ویڈیو بنوائی اور تصاویر اتر وائیں اور برکتیں حاصل کیں۔اس روز حضور بے حد خوش تھے۔حضور انور کا چہرہ خوشی سے تمتما رہا تھا۔جب روڈرگ پہنچے تو احباب جماعت کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور فیملیز (Families) سے ملاقات شروع کرنے سے قبل فرمایا: آئیں اب دور کے جزیرہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت سے ملاقات کریں۔“ حضور 376