مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 374 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 374

ہیں : کتنی تکلیف پہنچتی ہے۔یہی خلافت کا حقیقی مضمون ہے ایک خلیفہ کے دل میں ساری جماعت کے دل دھڑک رہے ہوتے ہیں اور ساری جماعت کی تکلیفیں اس کے دل کو تکلیف پہنچا رہی ہوتی ہیں اور اسی طرح سب جماعت کی خوشیاں بھی اس کے دل میں اکٹھی ہو جاتی ہیں۔پس اللہ کرے ہمیشہ آپ کی خوشیاں پہنچتی رہیں اور آپ کی تکلیف مجھے نصیب نہ ہو کیونکہ آپ کی تکلیف میری تکلیف ہے۔اس آخری نصیحت کے بعد اب میں آپ کو اپنے ساتھ دعا میں شامل ہونے کی تحریک کرتا ہوں۔“ مشعل راہ جلد 3 صفحه 687 ) حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی ایک خطبہ جمعہ میں احباب جماعت کے خلوص و وفا کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے یہ بہت ہی ایک ہمارے بہت ہی دلچسپ اور پیار کرنے والے دوست ہیں ان کا خط آیا ہے کہ مجھے تو یہ فکر ہے ہی نہیں نہ ہوئی تھی کبھی کہ انگلستان کے لوگ خیال نہیں رکھیں گے اور اپنی ذمہ داریوں کو ادا نہیں کریں گے مجھے تو ایک فکر کھا رہا ہے اور پنجابی میں انہوں نے اس فکر کا اظہار کیا کہ کہیں آپ کو ” مل ہی نہ لیں“ پیارا اظہار انہوں نے کیا کہ مجھے تو فکر یہ ہے کہ آپ کو کہیں انگلستان کی جماعت مل ہی نہ لے۔تو میں ان کو بھی بتاتا ہوں کہ تمام اہل پاکستان کو بھی بتاتا ہوں اور خاص طور پر ربوہ کے درویشوں کو کہ ”میں تو ملا جا چکا ہوں۔میری زندگی میرا اٹھنا بیٹھنا میرا جینا اور میرا مرنا آپ کے ساتھ ہے۔یہ ناممکن۔یہ ناممکن ہے کہ میں خدا کی راہ کے درویشوں کی محبت کو کبھی بھلا سکوں کوئی دنیا کی طاقت اس محبت کو میرے دل سے نوچ کر باہر نہیں پھینک سکتی۔کوئی دنیا کی کشش، کوئی دنیا کی نعمت میری نگاہوں کو آپ کی طرف سے ہٹا کر اپنی طرف منتقل نہیں کر سکتی۔لاکھوں خدا کے پیارے ہیں جو مجھے بھی بہت پیارے ہیں، لاکھوں پیارے ہیں جو آپ کی طرح اپنے سے اور مجھ سے محبت کرتے ہیں صرف اس لئے کہ خدا کی طرف سے میں اس مقام پر فائز کیا گیا ہوں لیکن وہ سب محبتیں اپنی جگہ مگر اے ربوہ کے پاک درویشو! اے خدا کے در کے فقیرو! جو خدا کی خاطر دُکھ دیئے جارہے ہو تمہاری محبت کا ایک الگ مقام ہے، اس کی ایک عجیب شان ہے، اس کا کوئی دنیا میں مقابلہ نہیں کر سکتا۔ایک شعر میرے ذہن میں آیا ہے اس سے شاید میرا مافی الضمیر ادا ہو جائے۔ایک شاعر نے خوب کہا امام ہے کہ ہم جس پہ مر رہے ہیں وہ ہے بات ہی کچھ اور تم - سے جہاں میں لاکھ سہی تم مگر کہاں (خطبات طاہر جلد 3 صفحہ 31 532 ) حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں: ”جماعت احمدیہ پر جب بھی مصیبت آئی ہے جتنی بڑی مصیبت آئی ہے اتنا ہی زیادہ جماعت نے ہمیشہ اخلاص اور وفا کا نمونہ دکھایا ہے۔حیرت انگیز جماعت ہے اس کی کوئی نظیر دنیا میں نہیں ہے۔کوئی دنیا کی جماعت ایسی نہیں ہے جس پر ایسے خطرناک ابتلا آئیں اور وہ اپنی وفا اور ایثار اور قربانی میں پہلے سے بھی زیادہ بڑھ جائے۔پس پاکستان میں بھی جماعت کا یہی حال ہے اور حیرت انگیز اخلاص کے اندر اضافے ہو رہے ہیں۔جو خطوط آتے ہیں ان سے پتہ چلتا سے پتہ چلتا ہے کہ وہ لوگ جو بعض دفعہ مسجد کی زیارت سے بھی محروم رہتے تھے وہ 374