مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 369
اخلاص نامہ اس امر کا ثبوت ہے۔" کچھ عرصہ ہوا ہمیں اس فتنہ کے بارہ میں خبر ملی جسے بعض جماعت کی طرف منسوب ہونے والے اشخاص نے اٹھایا ہے۔حالانکہ ان لوگوں نے اپنے ان بد ارادوں کی وجہ سے جن کا انہوں نے اظہار کیا ہے خود بخود ہی اپنے آپ کو جماعت سے الگ کر لیا ہے۔ہم ممبران جماعت احمدیہ مصر (Egypt) اس موقع پر جبکہ منافقین حضور (رضی اللہ عنہ) کی ذات بابرکات پر اتہام لگا رہے ہیں اور حضور کے بلند مقام کو گرانا چاہتے ہیں۔ہم اپنے اس عہد بیعت کو دوبارہ پختہ کرتے ہیں۔جسے ہم قبل ازیں اپنے اوپر فرض کر چکے ہیں اور ہم پورے شرح کے ساتھ اس محبت اور اخلاص کا اعلان کرتے ہیں جو ہمیں حضور کی ذات سے حاصل ہے اور ہم اس مضبوط اور روحانی تعلق کی مزید برکات کو حاصل کرنے کا عزم کیے ہوئے ہیں۔انشاء اللہ تعالی۔“ صدر حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ: تاریخ احمدیت جلد 19 صفحہ 31 ) حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں: میں جانتا ہوں کہ جماعت کس طرح میرے لئے دعائیں کرتی ہے۔وہ میرے اور اپنے مقاصد کی کامیابی کے لئے دعائیں کرتی ہے۔وہ جماعت کی پریشانیوں میں جب خلیفہ وقت کو پریشان ہونا پڑتا ہے تو پھر جماعت ایک اور لحاظ سے پریشان ہو جاتی ہے کہ ان حالات میں امام وقت کو پریشانی کا منہ دیکھنا پڑ رہا ہے۔اللہ تعالی حالات بدلے اور یہ پریشانی دور ہو۔جس طرح انگلی کو تکلیف پہنچے تو انسان کی روح تڑپ اٹھتی ہے اور اگر کسی کو ذہنی کوفت ہو تو سارا جسم کو فت محسوس کر رہا ہوتا ہے یہی حال خلیفہ وقت اور جماعت احمدیہ کا ہے۔پس یہ سمجھنا غلط ہے کہ خلیفہ وقت کوئی اور چیز ہے اور جماعت احمدیہ کوئی اور چیز۔اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ پر بڑا فضل کیا ہے۔جماعت احمدیہ اور امام جماعت احمدیہ ایک ہی چیز کے دو نام ہیں دونوں کے مجموعہ سے ایک چیز بنتی ہے جو اپنے اندر یک جہتی کی علامت ہے۔“ روزنامه الفضل مؤرخہ 21 مئی 1978 ء) حضرت خلیفتہ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالی احباب جماعت کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں: ”اے جان سے زیادہ عزیز بھائیو! میرا ذرہ ذرہ آپ پر قربان کہ آپ کو خدا تعالیٰ نے جماعتی اتحاد اور جماعتی استحکام کا وہ اعلیٰ نمونہ دکھانے کی توفیق عطا کی کہ آسمان کے فرشتے آپ پر ناز کرتے ہیں۔آسمانی ارواح کے سلام کا تحفہ قبول کرو۔تاریخ کے اوراق آپ کے نام کو عزت کے ساتھ یاد کریں گے اور آنے والی نسلیں آپ پر فخر کریں گی کہ آپ نے محض اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر اس بندہ ضعیف اور ناکارہ کے ہاتھ پر متحد ہو کر عہد کیا ہے کہ قیام توحید اور اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے جلال کے قیام اور غلبہ اسلام کے لئے جو تحریک اور جو جدوجہد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے شروع کی تھی اور جسے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے اپنے آرام کھو کر، اپنی زندگی کے ہر سکھ کو قربان کر کے اکناف عالم تک پھیلایا ہے آپ اس جدوجہد کو تیز سے تیز کرتے چلے جائیں گے۔میری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں اور میں ہمیشہ آپ کی دعاؤں کا بھوکا ہوں۔میں نے آپ کے تسکین قلب کے لئے، آپ کے بار کو ہلکا کرنے کے لئے ، آپ کی پریشانیوں کو دور کرنے کے لئے، اپنے رب رحیم سے 369