مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 370
قبولیت دعا کا نشان مانگا ہے اور مجھے پور یقین اور بھروسہ ہے اس پاک ذات پر کہ وہ میری اس التجا کو رد نہیں کرے گا۔“ (حیات ناصر صفحہ: 374 ) حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: 1967ء میں ڈنمارک (Denmark) میں کوپن ہیگن (Copenhagen) کے مقام پر چند عیسائی پادری مجھ سے ملنے آئے ان میں سے ایک نے مجھے کہا کہ جماعت احمدیہ میں آپ کا کیا مقام ہے میں نے اسے جواب دیا کہ میرے نزدیک آپ کا سوال درست نہیں ہے اس لئے کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کا امام اور جماعت احمد یہ ایک ہی چیز کے دو نام ہیں یعنی خلیفہ وقت اور جماعت دونوں مل کر ایک وجود بنتے ہیں اسی لئے خلافت کا یہ کام ہے کہ وہ جماعت کے دکھوں کو دور کرنے کی کوشش کرے۔خلیفہ وقت آپ کے لئے دعا کریں خلیفہ وقت پر بعض دفعہ ایسے حالات بھی آتے ہیں کہ وہ ہفتوں ساری ساری رات آپ کے لئے دعائیں کر رہا ہوتا ہے جیسے 1974 ء کے حالات میں دعائیں کرنی پڑیں میرا خیال ہے کہ دو مہینے تک میں بالکل سو نہیں سکا تھا۔کئی مہینے دعاؤں میں گزرے تھے۔پس خلیفہ وقت وہ وجود ہے جو آپ کے رنج میں شریک آپ کی خوشیوں میں شریک ہو۔“ دو ہو۔روزنامه الفضل مؤرخہ 21 مئی 1978 ء ) احباب جماعت کے لئے اپنی دلی محبت کا ذکر کرتے ہوئے حضرت خلیفہ لمسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: علاوہ ازیں دنیوی لحاظ سے وہ تلخیاں جو دوستوں نے انفرادی طور پر محسوس کیں وہ ساری تلخیاں میرے سینے میں جمع ہوتی تھیں۔ان دنوں مجھ پر ایسی راتیں بھی آئی کہ میں خدا کے فضل اور رحم سے ساری ساری رات ایک منٹ سوئے بغیر دوستوں کے لئے دعائیں کرتا رہا ہوں۔میں احباب سے یہ درخواست کر تا ہوں کہ وہ میرے لئے بھی دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے صحت دے اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے مجھے ان ذمہ داریوں کو بطریق احسن ادا کرنے کی توفیق عطا کرے جو اس نے اس عاجز کے کندھوں پر ڈالی ہیں۔میں اور احباب جماعت مل کر ان ذمہ داریوں کو پورا کریں کیونکہ میرے اور احباب کے وجود میں میرے نزدیک کوئی امتیاز اور فرق نہیں ہے۔ہم دونوں امام جماعت اور جماعت ایک ہی وجود کے دو نام ہیں اور ایک ہی چیز کے دو مختلف زاویے ہیں۔پس ہمیں اپنی زندگیوں میں ان بشارتوں کے پورا ہونے کی جھلکیاں نظر آنے لگیں جو بشارتیں کہ مہدی معہود علیہ السلام کے ذریعہ حضرت محمد مصطفی ملاقہ کے دین کے غلبہ کی ہمیں ملی ہیں۔آمین۔“ روزنامه الفضل مؤرخہ 17 اپریل 1976 ء) 66 حضرت خلیفۃ امسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں : " فضل عمر فاؤنڈیشن کا جب چندہ جمع ہو رہا تھا تو ایک دن ملاقاتیں ہو رہی تھیں۔مجھے دفتر نے اطلاع دی کہ ایک بہت معمر مخلص احمدی آئے ہیں وہ سیڑھی نہیں چڑھ سکتے اور حقیقت یہ تھی کہ یہاں آنا بھی ایک لحاظ سے انہوں نے اپنی جان پر ظلم ہی کیا تھا۔چنانچہ وہ کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے کھڑے بھی نہیں ہو سکتے تھے۔میں نے کہا میں نیچے ان کے پاس چلا جاتا ہوں۔خیر جب میں گیا۔پتہ نہیں تھا کہ وہ کیوں آئے ہیں۔مجھے دیکھ کر انہوں نے بڑی مشکل سے کھڑے ہونے کے لئے زور لگایا تو میں نے کہا نہیں آپ بیٹھے رہیں۔وہ بہت معمر تھے۔انہوں نے بڑے پیار سے دھوتی کا ایک پلو کھولا اور اس میں سے دو سو اور کچھ رقم نکالی اور کہنے لگے میں فضل عمر فاؤنڈیشن کے لئے لے کر آیا ہوں۔پیار کا ایک مظاہرہ ہے۔پس اس قسم کا اخلاص اور پیار اور 370