مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 368 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 368

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کا ایمان افروز پیغام: جماعت احمدیہ کے اولوالعزم امام حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے قاتلانہ حملہ کے بعد سب سے پہلا کام یہ کیار کہ 10 مارچ کی رات کو جماعت احمدیہ کے نام اپنے قلم مبارک سے حسب ذیل برقی پیغام بزبان انگریزی تحریر فرمایا جو اخبار اصلح کراچی کی 12 مارچ 1954 ء کی اشاعت میں شائع ہوا:۔66 " 'Almuslih Karachi' " Brethren you have heard about the attack made upon me by an ignorant enemy۔May God open these people's eyes and make them understand their duty towards Islam and Holy prophet۔My brethren pray to God that if my hour has come Allah may give my soul peace and bestow His blessings۔Also pray that God through His bounty may give you a leader better suited to the job than I was, I have loved you always better than my wives and children and was always ready to sacrifice every one near and dear to me to the cause of Islam and Ahmadiyyat۔I expect from you and your coming generations also to be so for all times God be with you۔Wassalam Mirza Mahmud Ahmad۔" برادران! آپ سن چکے ہوں گے کہ مجھ پر ایک نادان دشمن نے حملہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی آنکھیں کھولے اور اسلام اور نبی اکرم حلقہ سے متعلق ان پر جو فرض عائد ہوتا ہے اسے سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔برادران! اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ اگر میرا وقت آن پہنچا ہے تو وہ میری روح کو تسکین عطا کرے اور اپنی حمتیں نازل فرمائے۔نیز یہ بھی دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے آپ لوگوں کو ایسا لیڈر عطا فرمائے جو اس کام کے لئے مجھ سے زیادہ موزوں ہو۔میں ہمیشہ آپ سے اپنی بیویوں اور بچوں سے زیادہ محبت کرتا رہا ہوں اور اسلام اور احمدیت کی خاطر اپنے ہر قریبی اور ہر عزیز کو قربان کرنے کیلئے ہمیشہ تیار رہا ہوں۔میں آپ سے اور آپ کی آنیوالی نسلوں سے بھی یہی تو قع رکھتا ہوں کہ آپ بھی ہمیشہ اسی طرح عمل کریں گے۔اللہ تعالیٰ آپ کا حامی و ناصر ہو۔والسلام مرزا محمود احمد تاریخ احمدیت جلد نمبر 17 صفحہ 234 235 ) 1956 ء میں خلافت ثانیہ کے دور میں جب بعض لوگوں نے خلافت کے خلاف فتنہ برپا کیا، تو جماعت کے ہر فرد میں نظام خلافت سے محبت و الفت اور منافقین سے بیزاری کے شدید جذبات دیکھنے میں آئے چنانچہ جماعت نے پیارے امام کے ساتھ بے مثال محبت و اخلاص کے ثبوت دیا اور اپنے عہد بیعت کی شاندار رنگ میں تجدید کی جیسے ممبران جماعت احمدیہ مصر (Egypt) کا 368