مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 219
مورخہ 7 نومبر 1965ء کو بعد نماز عشاء مسجد مبارک ربوہ میں سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی مقرر کردہ مجلس انتخاب کا اجلاس بہ صدرات جناب حضرت مرزا عزیز احمد صاحب رضی اللہ عنہ ناظر اعلیٰ صدر انجمن احمد یہ منعقد ہوا جس میں حسب قواعد ہر ممبر نے خلافت سے وابستگی کا حلف اٹھایا اور اس کے بعد حضرت مرزا ناصر احمد صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کو آئندہ کے لئے خلیفہ امسیح اور امیر المؤمنین منتخب کیا۔اراکین مجلس انتخاب نے اسی وقت آپ رحمہ اللہ تعالیٰ کی بیعت کی جس کے بعد آپ رحمہ اللہ تعالیٰ نے خطاب فرمایا اور پھر تمام موجود احباب نے جن کی تعداد اندازاً پانچ ہزار تھی رات کے ساڑھے دس بجے آپ رحمہ اللہ تعالی کی بیعت کی۔(حیات ناصر جلد 1 صفحہ 358) انتخاب خلافت سے اگلے روز مؤرخہ 9 نومبر 1965ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالی ہزاروں سوگوار احباب جماعت کے جلوس کے ساتھ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کا تابوت لے کر بہشتی مقبرہ پہنچے اور پچاس ہزار احباب جماعت کے ساتھ آپ رحمہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھائی۔چھ تکبیرات کہیں اور تدفین کے بعد لمبی پُرسوز دعا کروائی۔خلافت ثالثہ کی چند بابرکت تحریکات: (حیات ناصر جلد 1 صفحہ 363،362) حضرت خلیفة أمسح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دور خلافت میں متعدد تحریکیں جاری فرمائیں جن کا مختصر ذکر درج ذیل پہلی تحریک: 17دسمبر 1965ء کو جب ملک میں غلہ کی کمی محسوس ہو رہی تھی۔آپ رحمہ اللہ تعالیٰ نے جماعت کے امرا اور خوشحال طبقہ کو تحریک کی کہ وہ غرباء مساکین اور یتامیٰ کے لئے مناسب بندوبست کریں اور کوئی احمدی ایسا نہ ہو جو بھوکا سوئے اس پر جماعت نے بصد شوق عمل کیا اور کر رہی ہے۔۔دوسری تحریک: 1965ء میں اس تعلق اور محبت کے اظہار کے لئے جو جماعت کو حضرت فضل عمر سے ہے، آپ رحمہ اللہ تعالیٰ نے 25لاکھ روپیہ کے سرمایہ سے فضل عمر فاؤنڈیشن قائم کرنے کی تحریک فرمائی۔جماعت نے بفضل ایزدی 36 لاکھ سے زائد رقم اس مد میں پیش کی۔اس فنڈ سے فضل عمر لائبریری قائم ہو چکی ہے۔نیز علمی اور تحقیقی شوق پیدا کرنے کے لئے ہزار ہزار رپے کے 5 انعامات ہر سال بہترین مقالہ نگاروں کو پیش کئے جاتے ہیں۔تیسری تحریک: القرآن کے بارے میں ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ جماعت میں کوئی فرد بھی ایسا نہ رہے جو قرآن کریم ناظرہ نہ جانتا ہو۔جو ناظرہ پڑھ سکتے ہوں وہ ترجمہ سیکھیں اور قرآنی معارف سے آگاہ ہوں۔219