مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 218
المومنین نے اپنے تمام پوتوں میں سے صرف حضرت مرزا ناصر احمد صاحب خلیفہ المسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ کو ہی اپنے بیٹوں کی طرح پالا اور ان کی تربیت فرمائی۔(حیات ناصر جلد 1 صفحہ 9۔از محمود مجیب اصغر صاحب) حضرت خلیفة أسبح الثالث رحمہ اللہ تعالی (1909ء تا1982ء) ابتدائی زندگی: حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کو بھی اللہ تعالیٰ نے ایک خاص فرزند کی بشارت دی تھی۔چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ اپنے ایک مکتوب میں فرماتے ہیں: مجھے بھی خدائے تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ میں تجھے ایک ایسا لڑکا دوں گا جو دین کا ناصر ہو گا اور اسلام کی خدمت پر کمر بستہ ہو گا“۔تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 320) غرض حضرت خلیفة المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ بھی ایک رنگ سے موعود خلیفہ ہیں۔ان پیش خبریوں کے مطابق حضرت ناصر احمد صاحب خليفة اصبح الثالث رحمہ اللہ تعالٰی 16 نومبر 1909 ء کو بوقت شب قادیان میں پیدا ہوئے۔17 اپریل 1922 ء کو جب کہ آپ رحمہ اللہ تعالیٰ کی عمر 13 سال تھی حفظ قرآن کی تکمیل کی توفیق ملی۔بعد ازاں حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب رضی اللہ عنہ سے عربی اور اُردو پڑھتے رہے۔پھر مدرسہ احمدیہ میں دینی علوم کی تحصیل کیلئے باقاعدہ داخل ہوئے اور جولائی 1929ء میں آپ رحمہ اللہ تعالیٰ نے پنجاب یونیورسٹی سے ”مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا۔اس کے بعد میٹرک کا امتحان دیا اور پھر گورنمنٹ کالج لاہور میں داخل ہو کر 1934ء میں بی اے کی ڈگری حاصل کی۔اگست 1934 ء میں آپ رحمہ اللہ تعالیٰ کی شادی ہوئی۔6 ستمبر 1934 ء کو بغرض تعلیم انگلستان کیلئے روانہ ہوئے۔آکسفورڈ یونیورسٹی سے ایم۔اے کی ڈگر ی حاصل کر کے نومبر 1938ء میں واپس تشریف لائے۔یورپ سے واپسی پر جون 1939ء سے اپریل 1944 ء تک جامعہ احمدیہ کے پرنسپل رہے۔فروری 1939ء میں مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے صدر بنے۔اکتوبر 1949ء میں جب حضرت خلیفۃ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے بنفس نفیس خدام الاحمدیہ کی صدارت کا اعلان فرمایا تو نومبر 1954 ء تک بحیثیت نائب صدر مجلس کے کاموں کو نہایت عمدگی سے چلاتے رہے۔مئی 1944 ء سے لے کر نومبر 1965ء تک (یعنی تا انتخاب خلافت) تعلیم الاسلام کالج کی پرنسپلی کے فرائض سر انجام دیئے۔جون 1948 ء سے جون 1950 ء تک فرقان بٹالین کشمیر کے محاذ پر دادِ شجاعت دیتے رہے۔آپ رحمہ اللہ تعالیٰ اس بٹالین کی انتظامی کمیٹی کے ممبر تھے۔1953ء میں پنجاب میں فسادات ہوئے اور مارشل لا (Martial Law) کا نفاذ ہوا تو اس وقت آر رحمہ اللہ تعالیٰ کو گرفتار کر لیا گیا۔اس طرح سنت یوسفی کے مطابق آپ رحمہ اللہ تعالیٰ کو کچھ عرصہ قید و بند کی صعوبتیں جھیلنا پڑیں۔1954ء میں مجلس انصار اللہ کی زمام قیادت آپ رحمہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کی گئی۔مئی 1955ء میں حضرت خلیفۃ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے آپ رحمہ اللہ تعالیٰ کو صدر انجمن احمدیہ کا صدر مقرر فرمایا۔کالج کی پرنسپلی کے علاوہ صدر انجمن احمدیہ کے کاموں کی نگرانی بھی تا انتخاب خلافت آپ رحمہ اللہ تعالیٰ کے ہی سپرد رہی۔تقسیم ملک سے قبل باؤنڈری کمیشن Boundary) (Commision کیلئے مواد فراہم کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا اور حفاظت مرکز ( قادیان) کے کام کی براہ راست نگرانی کرتے انتخاب خلافت ثالثه: ( دینی معلومات کا بنیادی نصاب صفحہ 184 تا 186 شائع کردہ مجلس انصار اللہ پاکستان) 218