مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 217
جلسے منعقد کر کے معرکۃ الآرا تقاریر کیں اور اس پیشگوئی کے پورا ہونے کا ذکر کیا۔رضی اللہ عنہ نے یورپ کا دو مرتبہ سفر کیا۔پہلی مرتبہ آپ رضی اللہ عنہ 1924 ء میں ویمبلے (Wembley) کانفرنس میں شرکت کیلئے لندن تشریف لے گئے جہاں مختلف مذاہب کے نمائندوں نے اپنے اپنے مذاہب کی خوبیاں بیان کیں۔اس کانفرنس میں آپ کا مضمون ”احمدیت یعنی حقیقی اسلام انگیریزی میں ترجمہ کر کے پڑھا گیا۔1954 ء میں آپ رضی اللہ عنہ پر قاتلانہ حملہ ہوا۔علاج سے زخم تو بظاہر مندمل ہو گئے لیکن تکلیف جاری رہی اس لئے 1955ء میں آپ رضی اللہ عنہ دوسری مرتبہ بغرض علاج یورپ تشریف لے گئے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی وفات کا سانحہ: مندرجہ بالا سانحہ کے بعد آپ رضی اللہ عنہ کی صحت برابر گرتی چلی گئی یہاں تک کہ وہ المناک گھڑی آ پہنچی جب آپ رضی اللہ عنہ تقدیر الہی کے ماتحت اس جہان فانی سے کوچ کر گئے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔یہ 7 اور 8 نومبر 1965ء کی درمیانی شب تھی۔حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب خلیفة أصبح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے 9 نومبر کو بہشتی مقبرہ ربوہ کے وسیع احاطہ میں نماز جنازہ پڑھائی اور پچاس ہزار افراد نے دلی دعاؤں اور اشکبار آنکھوں کے ساتھ آپ رضی اللہ عنہ کو سپرد خاک کیا۔دینی معلومات کا بنیادی نصاب صفحہ 183 شائع کردہ مجلس انصار اللہ پاکستان) دور خلافت ثالثه حضرت خلیفة المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالی کے بارہ میں بشارات: سلسلہ عالیہ احمدیہ میں پیشگوئی مصلح موعود کو خاص اہمیت حاصل ہے۔اس کے مصداق حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفة المسح الثانی رضی اللہ عنہ ہیں اسی طرح حضرت خلیفہ اسیح الثالث نافلہ موعود کی پیشگوئی کے مصداق تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو موعود بیٹے اور پوتے کی یہ خبر ان حالات میں دی گئی جب کہ حضور علیہ السلام کے خلاف تکفیر کا بازار گرم تھا اور معاندین ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے تھے۔حضور علیہ السلام نے فرمایا: ”خدا جیسے پہلے تھا اب بھی ہے اور اس کی قدرتیں جیسے پہلے تھیں اب بھی ہیں اور اس کو نشان دکھانے پر جیسا کہ پہلے اقتدار تھا وہ اب بھی ہے پھر تم کیوں صرف قصوں پر راضی ہرتے ہو۔“ چنانچہ نافلہ موعود کے بارہ میں جو بشارات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دی گئیں وہ یہ ہیں: تَرى نَسُلًا بَعِيدًا إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامٍ مَظْهَرِ الْحَقِّ وَ الْعُلَى كَانَّ اللَّهَ نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامٍ نَافِلَةٍ لَكَ۔اور تو اپنی ایک دور کی نسل کو دیکھ لے گا ہم ایک لڑکے کی تجھے بشارت دیتے ہیں جس کے ساتھ حق کا ظہور ہو گا گویا آسمان سے خدا اترے گا۔ہم ایک لڑکے کی تجھے بشارت دیتے ہیں۔جو تیرا پوتا ہو گا۔“ ایک اور جگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا: ”چند روز ہوئے یہ الہام ہوا تھا: إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامٍ نَافِلَةً لگ۔ممکن ہے کہ اس کی یہ تعبیر ہو کہ محمود کے ہاں لڑکا ہو کیونکہ نافلہ پوتے کو بھی کہتے ہیں یا بشارت کسی اور وقت تک موقوف ہو۔“ پس پوتے کے لئے بیٹے کا لفظ بکثرت ہر زبان میں استعمال ہوتا ہے۔اور یہ عجیب بات ہے کہ حضرت ام 217