مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 216
آزادانہ طور ر تعلیم و تربیت کا کام جاری رکھ سکیں اور نئی نسل میں قیادت کی صلاحیتیں اُجاگر ہوں۔ان تنظیموں کا قیام جماعت پر احسانِ عظیم ہے۔-5 -6 ނ 1944ء کو جماعت میں اسلامی نظام شوری کوزندہ رکھنے کیلئے مجلس شوریٰ کا قیام فرمایا۔قرآنی علوم کی اشاعت اور ترویج کے لئے درس قرآن کا سلسلہ جماعت میں جاری رکھا۔تفسیر کبیر کے نام کئی جلدوں میں قرآن کریم کی ایک ضخیم تفسیر لکھی جس میں قرآنی حقائق و معارف کو ایسے اچھوتے انداز میں پیش کیا کہ دل تسلی پاتے اور اسلام کی حقانیت خوب واضح ہوتی ہے۔اس کے علاوہ ہر طبقہ کے لوگوں میں قرآنی علوم کو چسکا پیدا کرنے کے لئے قرآن کریم کی ایک نہایت مختصر مگر عام فہم تفسیر الگ تحریر فرمائی جس کا نام ”تفسیر صغیر ہے۔-7 بحیثیت امام اور خلیفہ وقت جماعتی ذمہ داریوں کو نبھانے کے علاوہ آپ رضی اللہ عنہ نے ملک و ملت کی خدمت میں نمایاں اور قابلِ قدر حصہ لیا۔آپ رضی اللہ عنہ کی تنظیمی صلاحیتوں کے پیش نظر مسلمانانِ کشمیر کو آزادی دلانے کے لئے جب آل انڈیا کشمیر کمیٹی قائم ہوئی تو آپ رضی اللہ عنہ کو اس کا صدر منتخب کیا گیا۔ہر اہم سیاسی مسئلہ کے بارے میں آپ رضی اللہ عنہ نے مسلمانان ہند کی رہنمائی کی اور بیش قیمت مشوروں کے علاوہ دامے درمے سخنے ہر طرح ان کی مدد کی۔کئی مرتبہ اپنے سیاسی مشوروں کو کتابی شکل میں شائع کر کے ملک کے تمام سر برآوردہ اشخاص تک نیز ترجمہ کے ذریعہ ممبران برٹش پارلیمنٹ British) (Parliment اور برٹش کیبنٹ (British Cabinet) تک پہنچایا۔-8 تقسیم ملک کے وقت جہاں آپ رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کی حفاظت اور بہبود کے لئے مقدور بھر کوشش کیں وہاں اپنی جماعت کیلئے 1948ء میں ربوہ جیسے بے آب و گیاہ علاقہ میں ایک فعال مرکز قائم کیا جہاں سے الحمد للہ تبلیغ اسلام کی مہم پورے زور سے پروان چڑھی۔ایک بنجر اور شور زدہ علاقہ میں بے سر و سامانی کے باوجود ایک پُر رونق بستی کا آباد کر دینا خود اپنی ذات میں ایک بڑا کارنامہ ہے۔یہ بستی نہ صرف تبلیغ اسلام کا اہم ترین مرکز ہے بلکہ ملک میں علم کی ترقی اور ترویج کا بھی ایک ممتاز سنٹر ہے اس کے علاوہ کھیلوں کے میدان میں بھی قابلِ ذکر کردار ادا کر رہی ہے۔1940ء میں آپ رضی اللہ عنہ نے تاریخ اسلام کے واقعات کو بہتر رنگ میں سمجھنے اور یاد رکھنے کیلئے ہجری شمسی -9 سن جاری فرمایا۔۔10۔آپ رضی اللہ عنہ نے متعدد والیان ریاست اور سربراہان مملکت کو تبلیغی خطوط ارسال کئے اور انہیں احمدیت یعنی حقیقی اسلام سے روشناس کرایا۔ان میں امیر اللہ خاں والی افغان، نظام دکن، پرنس آف ویلز Prince of) Wales اور لارڈ ارون وائسرائے ہند Lord Erwin Viceroy of India) خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔دینی معلومات کا بنیادی نصاب صفحہ 179 تا 182 شائع کردہ مجلس انصار اللہ پاکستان) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی تصنیفی خدمات: -1 -2 -3 -4 تفسیر صغیر ( قرآن مجید کا مکمل ترجمہ مع مختصر تفسیری نوٹس) تفسیر کبیر 10 جلدوں میں (قرآن کریم کے بڑے حصوں کی تفصیلی تفسیر ) انوار العلوم جلد 1 تا 17 (ابھی جاری ہے ) پر مشتمل تقاریر و تصانیف (آغاز سے 1944ء تک مکمل) خطبات محمود جلد 1 تا15 ( پر مشتمل خطبات جمعہ و عیدین و خطبات نکاح) ( آغاز تا1934ء جاری ہے۔) 1944ء میں بذریعہ رؤیا والہام آپ پر اس امر کا انکشاف ہو کی آپ ہی وہ مصلح موعود ہیں جس کی پیشگوئی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمائی تھی۔اس انکشاف کے اعلان کے لئے آپ رضی اللہ عنہ نے ہوشیار پور، لدھیانہ، لاہور اور دہلی میں 216