مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 21
اس کا رب اس کو بلاتا ہے اور اس کی روح اس کے نقطہ نفسی کی طرف اٹھائی جاتی ہے۔“ (خطبہ الہامیہ۔روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 39 تا 41 اردو ترجمہ) حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ” خلیفہ جانشین کو کہتے ہیں اور رسول کا جانشین معنوں کے لحاظ سے وہی ہو سکتا ہے جو ظلی طور پر رسول کے کمالات اپنے اندر رکھتا ہو اس واسطے رسول کریم نے نہ چاہا کہ ظالم بادشاہوں پر خلیفہ کا لفظ اطلاق ہو کیونکہ خلیفہ درحقیقت رسول کا ظل ہوتا ہے اور چونکہ کسی انسان کے لئے دائمی طور پر بقا نہیں لہذا خدا تعالیٰ نے ارادہ کیا کہ رسول کے وجود کو جو تمام دنیا کے وجودوں سے اشرف و اولی ہیں ظلی طور پر ہمیشہ کے لئے تا قیامت قائم رکھے۔سو اسی غرض سے خدا تعالیٰ نے خلافت کو تجویز کیا تا کہ دنیا کبھی اور کسی زمانہ میں برکاتِ رسالت سے محروم نہ رہے۔“ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: (شهادة القرآن روحانی خزائن جلد 6 - صفحہ 353) ” خلافت کیسری کی دُکان کا سوڈا واٹر نہیں۔تم اس بکھیڑے سے کچھ فائدہ نہیں اٹھا سکتے ، نہ تم کو کسی نے خلیفہ بنانا ہے اور نہ میری زندگی میں کوئی اور بن سکتا ہے۔میں جب مر جاؤں گا تو پھر وہی کھڑا ہو گا جس کو خدا چاہے گا اور خد اس کو آپ کھڑا کر دے گا۔تم نے میرے ہاتھوں پر اقرار کئے ہیں تم خلافت کا نام نہ لو۔مجھے خدا نے خلیفہ بنا دیا ہے اور اب نہ تمہارے کہنے سے معزول ہو سکتا ہوں اور نہ کسی میں طاقت ہے کہ وہ معزول کرے۔اگر تم زیادہ زور دو گے تو یاد رکھو میرے پاس ایسے خالد بن ولید ہیں جو تمہیں مرتدوں کی طرح سزا دیں گے۔“ (اخبار "بدر 11 جولائی 1912ء - جلد 12 نمبر 2 صفحہ 4) حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ”ہماری جماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ جماعت کا جو خلیفہ ہو وہ اپنے زمانہ میں جماعت کے تمام لوگوں سے افضل ہوتا ہے اور چونکہ ہماری جماعت ہمارے عقیدہ کی رُو سے باقی تمام جماعتوں سے افضل ہے اس لئے ساری دنیا میں سے افضل جماعت میں سے ایک شخص جب سب سے افضل ہو گا تو موجودہ لوگوں کے لحاظ سے یقیناً اُسے بعد از خدا بزرگ توئی کہہ سکتے ہیں۔“ الفضل 27 اگست 1937 ، صفحہ 6) ”جماعت احمدیہ کے خلیفہ کی حیثیت دنیا کے تمام بادشاہوں اور شہنشاہوں سے زیادہ ہے، وہ دنیا میں خدا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نمائندہ ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: 66 الفضل 27 اگست 1937 ء صفحہ 8) جماعت کے اتحاد اور شریعت کے احکام کو پورا کرنے کے لئے ایک خلیفہ کا ہونا ضروری ہے اور جو اس بات کو رد کرتا ہے وہ گویا شریعت کے احکام کو رد کرتا ہے۔صحابہ کا عمل اس پر ہے اور سلسلہ احمدیہ سے بھی خدا تعالیٰ نے اسی کی تصدیق کرائی ہے۔جماعت کے معنی ہی یہی ہیں کہ وہ ایک امام کے ماتحت ہو۔جو لوگ کسی امام کے ماتحت نہیں وہ جماعت نہیں اور ان پر خدا تعالیٰ کے وہ فضل نازل نہیں ہو سکتے اور کبھی نہیں ہو سکتے جو ایک جماعت پر ہوتے ہیں۔21