مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 22
دو کون ہے جو خدا کے کام کو روک سکے انوار العلوم جلد 2 صفحہ 13) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: خلافت ایک الہی نعمت ہے۔کوئی نہیں جو اس میں روک بن سکے۔وہ خدا تعالیٰ کے نور کے قیام کا ذریعہ ہے جو اس کو مٹانا چاہتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے نور کو مٹانا چاہتا ہے۔ہاں وہ ایک وعدہ جو پورا تو ضرور کیا جاتا ہے لیکن اس کے زمانے کی لمبائی مومنوں کے اخلاق سے وابستہ ہے۔“ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: 66 الفضل 23 ستمبر 1937 ء - صفحہ 15) پس یا تو ہمارا یہ عقیدہ ہی غلط ہے کہ خلیفہ وقت ساری دنیا کا اُستاد ہے اور اگر یہ سچ ہے اور یقیناً یہی سچ ہے تو دنیا کے عالم اور فلاسفر شاگرد کی حیثیت سے ہی اس کے سامنے آئیں گے۔استاد کی حیثیت سے اس کے سامنے نہیں آئیں گے۔“ حضرت خلیفة اصبح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: تو میں آپ کو وضاحت کے ساتھ بتانا چاہتا ہوں کہ جس شخص کو بھی اللہ تعالیٰ آپ کا خلیفہ بنائے گا، اس کے دل میں آپ کے لئے بے انتہا محبت پیدا کر دے گا اور اس کو یہ توفیق دے گا کہ وہ آپ کے لئے اتنی دعائیں کرے کہ دعا کرنے والے ماں باپ نے بھی آپ کے لئے اتنی دعائیں نہ کی ہوں گی اور اس کو یہ بھی توفیق دے گا کہ آپ کی تکلیفوں کو دور کرنے کے لئے ہر قسم کی تکلیف وہ خود برداشت کرے اور بشاشت کرے اور آپ پر احسان جتائے بغیر کرے کیونکہ وہ خدا کا نوکر ہے آپ کا نوکر نہیں ہے اور خدا کا نوکر خدا کی رضا کے لئے ہی کام کرتا ہے کسی پر احسان رکھنے کے لئے کام نہیں کرتا لیکن اس کا یہ حال اور اس کا یہ فعل اس بات کی علامت نہیں ہے کہ اس کے اندر کوئی کمزوری ہے اور آپ اس کی کمزوری سے ناجائز فائدہ اٹھا سکتے ہیں وہ کمزور نہیں، خدا کے لئے اس کی گردن اور کمر ضرور جھکی ہوئی ہے لیکن خدا کی طاقت کے بل بوتے پر وہ ہے۔ایک یا دو آدمیوں کا سوال ہی نہیں میں نے بتایا ہے کہ ساری دنیا بھی مقابلہ میں آجائے تو اس کام کرتا کی نظر میں کوئی چیز نہیں۔“ b ( خطبات ناصر جلد 1 صفحہ 494 خطبہ جمعہ 18 نومبر 1966ء) حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: " پس کامل بھروسہ اور کامل تو کل تھا اللہ کی ذات پر کہ وہ خلافت احمدیہ کو کبھی ضائع نہیں ہونے دے گا ہمیشہ قائم و دائم رکھے گا، زندہ اور تازہ اور جوان اور ہمیشہ مہکنے والے عطر کی خوشبو سے معطر رکھتے ہوئے اس شجرہ طیبہ کی صورت میں اس کو ہمیشہ زندہ و قائم رکھے گا جس کے متعلق وعدہ ہے اللہ تعالیٰ کا کہ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَّ فَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ لا تُؤْ تِي أُكُلَهَا كُلَّ حِيْنِ بِإِذْنِ رَبِّهَا (ابراهيم: 25 و 26) کہ ایسا شجرہ کہ طیبہ ہے جس کی جڑیں زمین میں گہری پیوست ہیں اور کوئی دنیا کی طاقت اسے اکھاڑ کر پھینک نہیں سکتی۔یہ شجرہ خبیثہ نہیں ہے کہ جس کے دل میں آئے وہ اسے اٹھا کر اسے اکھاڑ کے ایک جگہ سے دوسری جگہ پھینک دے کوئی آندھی، کوئی ہوا اس (شجرہ طیبہ) کو اپنے مقام سے ٹلا نہیں سکے گی اور شاخیں آسمان سے اپنے رب سے سے باتیں کر رہی ہیں اور ایسا درخت نو بہار اور سدا بہار ہے۔ایسا عجیب ہے یہ درخت کہ ہمیشہ نو بہار رہتا ہے کبھی خزاں کا منہ نہیں دیکھتا۔تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَ حِيْنِ م بِإِذْنِ رَبِّهَا، ہر آن اپنے رب سے پھل پاتا چلا جاتا ہے اس پر کوئی خزاں کا وقت نہیں آتا اور اللہ کے حکم سے پھل پاتا ہے۔اس میں نفس کی کوئی ملونی شامل نہیں ہوتی۔یہ وہ نظارہ تھا جس کو 22 22