مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 20 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 20

اُس نے اُن کے لیے پسند کیا ، ضرور تمکنت عطا کرے گا اور اُن کی خوف کی حالت کے بعد ضرور انہیں امن کی حالت میں بدل دے گا۔وہ میری عبادت کریں گے۔میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے اور جو اس کے بعد بھی ناشکری کرے تو یہی وہ لوگ ہیں جو نافرمان ہیں۔“ حدیث: ( ترجمه از قرآن کریم اردو ترجمه از حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی) عَنْ حُذِيفَةَ رَضِيَ : اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَكُونُ النُّبُوَّةُ فِيكُمُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللهُ تَعَالَى ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ مَا شَاءَ اللهُ اَنْ تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللَّهُ تَعَالَى ثُمَّ تَكُونُ مُلكًا عَاضًا فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللهُ اَنْ تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللهُ تَعَالَى ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا جَبْرِيَّةً فَيَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَكُوْنَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللَّهُ تَعَالَى ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ ثُمَّ سَكَتَ۔(مسند احمد بن حنبل جلد 4 صفحہ 273 - مقلوة بَابُ الْإِندَارِ وَالتَّحْذِير) حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں نبوت قائم رہے گی جب تک اللہ چاہے گا پھر وہ اس کو اٹھا لے گا اور خلافت على مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ قائم ہو گی، پھر اللہ تعالیٰ جب چاہے گا اس نعمت کو بھی اٹھا لے گا، پھر ایذا رساں بادشاہت قائم ہو گی اور تب تک رہے گی جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا۔جب یہ دور ختم ہو گا تو اس سے بھی بڑھ کر جابر بادشاہت قائم ہو گی اور تب تک رہے گی جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا پھر وہ ظلم ستم کے اس دور کو ختم کر دے گا جس کے بعد پھر نبوت کے طریق پر خلافت قائم ہو گی ! یہ فرما کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔خلافت کا مقام و مرتبہ خلافت کے مقام و مرتبہ کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ” اس کے بعد حضرت احدیت کے جذبات ہیں اور خوشبوئیں ہیں اور تجلیات ہیں تا وہ بعض ان رگوں کو کاٹ دے کہ جو بشریت میں سے باقی رہ گئی ہوں اور بعد اس کے زندہ کرنا ہے اور باقی رکھنا اور قریب کرنا اس نفس کا جو خدا کے ساتھ آرام پکڑ چکا ہے جو خدا سے راضی اور خدا اس سے راضی اور فنا شدہ ہے تا کہ یہ بندہ حیات ثانی کے قبول فیض کے لئے مستعد ہو جائے اور اس کے بعد انسان کامل کو حضرت احدیت کی طرف خلافت کا پیرا یہ پہنایا جاتا ہے اور رنگ دیا جاتا ہے اُلوہیت کی صفتوں کے ساتھ اور یہ رنگ ظلی طور پر ہوتا ہے تا مقام خلافت متحقق ہو جائے اور پھر اس کے بعد خلقت کی طرف اترتا ہے تا ان کو روحانیت کی طرف کھینچے اور زمین کی تاریکیوں سے باہر لا کر آسمانی نوروں کی طرف لے جائے اور یہ انسان ان سب کا وارث کیا جاتا ہے جو نبیوں اور صدیقوں اور اہل علم اور درایت میں سے اور قرب اور ولایت کے سورجوں میں سے اس پہلے گزر چکے ہیں اور دیا جاتا ہے اس کو علم اولین کا اور معارف گزشتہ اہل بصیرت اور حکمائے ملت کے لئے تا اس کے لئے مقام وراثت کا محقق ہو جائے پھر یہ بندہ زمین پر ایک مدت تک جو اس کے رب کے ارادے میں ہے توقف کرتا ہے تا کہ مخلوق کو نور ہدایت کے ساتھ منور کرے اور جب خلقت کو اپنے رب کے نور کے ساتھ روشن کر چکا یا امر تبلیغ کو بقدر کفایت پورا کر دیا۔پس اس وقت اس کا نام پورا ہو جاتا ہے اور 20