مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 167
وَهُمْ مِنَ الْاعَاجِمِ مَا فِيْهِمْ عَرَبِيٌّ لَكِنْ لَّا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا بِالْعَرَبِيَّةِ لَهُمْ حَافِظٌ لَيْسَ مِنْ جِنْسِهِمْ مَّاعَصَى اللَّهَ قَطُّ هُوَ أَحَصُّ الْوُزَرَاءِ وَأَفْضَلَ الْأَمْنَاءِ۔(الفتوحات مکیہ جلد 3 صفحہ 328 - اَلْبَابُ السَّادِسُ وَالسِّتُّونَ وَ ثُلُثُ مِائَةٍ فِى مَعْرِفَةِ وُزَرَاءِ الْمَهْدِى الظَّاهِرِ فِي آخِرِ الزَّمَان - مطبوعہ دارصادر بیروت لبنان) وزرائے مہدی سب عجمی ہوں گے ان میں سے کوئی عربی نہ ہو گا لیکن وہ عربی میں کلام کرتے ہوں گے ان میں سے ایک حافظ قرآن ہو گا جو ان کی جنس میں سے نہیں ہوگا کیونکہ اس نے کبھی خدا کی نافرمانی نہیں کی ہو گی، وہی اس موعود کا وزیر خاص اور بہترین امین ہو گا۔پانچویں صدی ہجری کے مسلمہ امام یحیی بن عقب نے امام مہدی کے بعد ایک عربی النسل شخص کے ظہور کی خبر دی چنانچہ لکھا ہے کہ: دو إِذَا جَاءَ هُمُ الْعَرَبِيُّ حَقًّــا عَلـى عَمَلٍ سَيُمْلِكُ لَا مَحَالٍ وَيَفْتَحُونَهَا مِنْ غَيْرِ شَكٍّ وَكَمْ دَاعٍ يُنَادِي بِابْتِهَالِ (شمس المعارف الکبری از شیخ ابوالعباس احمد بن علی بونی مصری کامل چار حصے دار الاشاعت اردو بازار کراچی) یعنی حضرت امام مہدی کے بعد ایک عظیم الشان عربی النسل آئے گا جو (خلیفہ) برحق ہو گا اور نیک عمل وسیرت اور بلند مرتبت کے باعث وہ (روحانی) بادشاہت کا ضرورت وارث ہو گا اور اس کے زمانہ میں بلاشک ممالک فتح ہوں گے بے شمار دعائیں کرنے والے عاجزی کے ساتھ اسلام کی فتح ( یا قدرت ثانیہ کے ظہور) کے لئے دعائیں کریں گے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ ایم اے اپنی کتاب ”سیرۃ المہدی“ میں حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ رضی اللہ عنہا کی ایک روایت بیان کرتے ہیں کہ: خاکسار عرض کرتا ہے کہ مجھ سے ہماری ہمشیرہ مبارکہ بیگم صاحبہ نے بیان کیا ہے کہ جب حضرت صاحب آخری سفر میں لاہور تشریف لے جانے لگے تو آپ نے ان سے کہا کہ مجھے ایک کام در پیش ہے دعا کرو اور اگر کوئی خواب آئے تو مجھے بتانا۔مبارکہ بیگم نے خواب دیکھا کہ وہ چوبارہ پر گئی ہیں اور وہاں حضرت مولوی نور الدین صاحب ایک کتاب لئے بیٹھے ہیں اور کہتے ہیں کہ دیکھو اس کتاب میں میرے متعلق حضرت صاحب کے الہامات ہیں اور میں ابوبکر ہوں دوسرے دن صبح مبارکہ بیگم سے حضرت صاحب نے پوچھا کہ کیا کوئی خواب دیکھا؟ مبارکہ بیگم نے یہ خواب سنائی تو حضرت صاحب نے فرمایا: یہ خواب اپنی اماں کو نہ سنانا۔مبارکہ بیگم کہتی ہیں کہ اس وقت میں نہیں سمجھی تھی کہ اس سے کیا مراد ہے۔“ (سيرة المهدی حصہ سوم صفحہ 37 از حضرت مرزا بشیر احمد ایم اے روایت نمبر 537) حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ: " خاکسار عرض کرتا ہے کہ جس وقت لاہور میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فوت ہوئے اس وقت حضرت مولوی نور الدین صاحب اس کمرہ میں موجود نہیں تھے جس میں آپ علیہ السلام نے وفات پائی۔جب حضرت مولوی صاحب کو اطلاع ہوئی تو آپ رضی اللہ عنہ آئے اور حضرت صاحب علیہ السلام کی پیشانی کو بوسہ دیا اور پھر جلد 167