مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 166 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 166

لَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِى ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَةِ لَنَّهُم مِّنْ بَعْدِ خَوْفِهِم ا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِيٍّ وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَسِقُونَO (سورة النور: 56 ) تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال بجا لائے اُن سے اللہ نے پختہ وعدہ کیا ہے کہ انہیں ضرور زمین میں خلیفہ بنائے گا جیسا کہ اُس نے اُن سے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنایا اور اُن کے لئے اُن کے دین کو، جو اُس نے اُن کے لیے پسند کیا، ضرور تمکنت عطا کرے گا اور اُن کی خوف کی حالت کے بعد ضرور انہیں امن کی حالت میں بدل دے گا۔وہ میری عبادت کریں گے۔میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے اور جو اس کے بعد بھی ناشکری کرے تو یہی وہ لوگ ہیں جو نافرمان ہیں۔“ مدیت (ترجمه از قرآن کریم اردو ترجمہ از حضرت خلیفه امسیح الرابع رحمه الله تعالی) مَنْ لَّمْ يُؤْمِنُ بِالرُّؤْيَا الصَّالِحَةِ لَمْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ جس شخص کا رویائے صالحہ پر یقین نہیں تو اس کا اللہ تعالیٰ پر اور یوم آخرت پر بھی یقین نہیں۔(مقدمه خواب و تعبیر ترجمه تعطیر الانام فی تعبیر المنام از شیخ عبد الغنی ابن اسمعیل نابلسی صفحہ 40 ایڈیشن اول 2002ء ناشر ادارہ اسلامیات انارکلی لاہور ) پیش گوئی مخبر صادق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم : عَنْ حُذِيفَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَكُونُ النَّبُوَّةُ فِيكُمْ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللهُ تَعَالَى ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ النَّبُوَّةِ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللَّهُ تَعَالَى ثُمَّ تَكُونُ مُلكًا عَاضًا فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللهُ اَنْ تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللهُ تَعَالَى ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا جَبْرِيَّةً فَيَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللَّهُ تَعَالَى ثُمَّ تَكُونَ خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ النَّبُوَّةِ ثُمَّ سَكَتَ۔(مسند احمد بن حنبل جلد 4 صفحہ 273 مَعْلُوةٍ بَابُ الْإِنْدَارِ وَالتَّحْذِيرِ) حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں نبوت قائم رہے گی جب تک اللہ چاہے گا پھر وہ اس کو اٹھا لے گا اور خلافت عَلى مِنْهَاج النَّبُوَّةِ قائم ہو گی، پھر اللہ تعالیٰ جب چاہے گا اس نعمت کو بھی اٹھا لے گا، پھر ایذا رساں بادشاہت قائم ہو گی اور تب تک رہے گی جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا۔جب یہ دور ختم ہو گا تو اس سے بھی بڑھ کر جابر بادشاہت قائم ہو گی اور تب تک رہے گی جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا پھر وہ ظلم ستم کے اس دور کو ختم کر دے گا جس کے بعد پھر نبوت کے طریق پر خلافت قائم ہو گی ! یہ فرما کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔خلافت اولی کے متعلق پیشگوئیاں: حضرت محی الدین ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ نے پیشگوئی فرمائی کہ آنے والے مسیح و مہدی کا ایک خاص وزیر حافظ قرآن ہو گا چنانچہ لکھتے ہیں: 166