مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 155
155 پرا سرر انہیں سزا دی۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آدم علیہ السلام ان معنوں میں بھی خلیفہ تھے کہ ایک پہلی نسل کے تباہ ہونے پر انہوں نے اور ان کی نسل نے پہلی قوم کی جگہ لے لی اور ان معنوں میں خلیفہ بھی تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ذریعہ ایک بڑی نسل جاری کی لیکن سے بڑی اہمیت جو انہیں حاصل تھی وہ نبوت اور ماموریت ہی کی تھی۔جس کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے۔انہی معنوں میں حضرت داؤد علیہ السلام کو بھی خلیفہ کہا گیا ہے جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: یا دَاوُدُ إِنَّا جَعَلْنَكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُمُ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ - إِنَّ الَّذِينَ يَضِلُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ بِمَا نَسُوا يَوْمَ الْحِسَابِ (ص:27) یعنی اے داؤد ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایا ہے (حضرت داؤد علیہ السلام چونکہ اللہ تعالیٰ کے نبی تھے اس لئے معلوم ہوا کہ یہاں خلافت سے مراد خلافت نبوت ہی ہے)۔پس تو لوگوں کے درمیان عدل و انصاف سے فیصلہ کر اور لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کر ایسا نہ ہو کہ وہ تجھے سیدھے راستے سے منحرف کر دیں۔یقیناً وہ لوگ جو گمراہ ہیں انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے سخت عذاب ہو گا۔اس لئے ایسے لوگوں کو مشورہ قبول نہ کیا کر بلکہ وہی کر جس کی طرف خدا تعالیٰ تیری راہنمائی کرے۔ان آیات میں وہی مضمون بیان ہوا ہے جو دوسری جگہ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ (ال عمران (ع (17) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے بعض لوگوں نے غلطی سے لَا تَتَّبع الهَوى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيلِ اللهِ کے یہ معنے گئے ہیں کہ اے داؤد ! لوگوں کی ہوا و ہوس کے پیچھے نہ چلنا۔حالانکہ اس آیت کے یہ معنے ہی نہیں بلکہ اس میں اس امر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ بعض دفعہ لوگوں کی اکثریت تجھے ایک بات کا مشورہ دے گی اور کہے گی کہ یوں کرنا چاہئے مگر فرمایا تمہارا کام یہ ہے کہ تم محض اکثریت کو نہ دیکھو بلکہ یہ دیکھو کہ جو بات تمہارے سامنے پیش کی جارہی ہے وہ مفید ہے یا نہیں اگر مفید ہو تو مان لو اور اگر مفید نہ ہو تو اسے رد کر دو چاہے اسے پیش کرنے والی اکثریت ہی کیوں نہ ہو بالخصوص ایسی حالت میں جبکہ وہ گنا ہ والی بات ہو۔۔: پس پہلی خلافتیں اول خلافت نبوت تھیں جیسے حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت داؤد علیہ السلام کی خلافت تھی جن کو قرآن کریم نے خلیفہ قرار دیا ہے مگر ان کو خلیفہ صرف نبی اور مامور ہونے کے معنوں میں کہا گیا ہے چونکہ وہ اپنے اپنے زمانہ کی ضرورت کے مطابق صفات الہیہ کو دنیا میں ظاہر کرتے تھے اور اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کے ظل بن کر ظاہر ہوئے اسی لئے اللہ تعالیٰ کے خلیفہ کہلائے۔۔دوسری خلافت جو قرآن کریم سے ثابت ہے وہ خلافت ملوکیت ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ حضرت ہود علیہ السلام کے متعلق فرماتا ہے کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ: وَاذْكُرُوا إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاءَ مِنْ بَعْدِ قَوْمٍ نُوحٍ وَّ زَادَكُمْ فِى الْخَلْقِ بَصْطَةً فَاذْكُرُوا الاءَ اللهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (اعراف۔9) یعنی اس وقت کو یاد کرو جبکہ قوم نوح کے بعد خدا نے تمہیں خلیفہ بنایا اور اس نے تم کو بناوٹ میں بھی فراخی بخشی یعنی تمہیں کثرت سے اولاد دی پس تم اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کو یاد کرو تا کہ تمہیں کامیابی حاصل ہو۔اسی طرح حضرت صالح علیہ السلام کی زبانی فرماتا ہے وَاذْكُرُوا إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاءَ مِنْ بَعْدِ عَادٍ (اعراف) ع (10) یعنی اس وقت کو یاد کرو جبکہ تم کو خدا تعالیٰ نے عاد اُولیٰ کی تباہی کے بعد ان کا جانشین بنایا اور حکومت تمہارے ہاتھ میں آ گئی۔اس آیت میں خلفا کا جو لفظ آیا ہے اس سے مراد صرف دنیوی بادشاہ ہیں اور نعمت سے مراد بھی نعمت حکومت ہی ہے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں نصیحت کی ہے کہ تم زمین میں عدل و انصاف کو مدنظر رکھ کر تمام کام کرو ورنہ ہم تمہیں سزا دیں گے۔چنانچہ یہود کی نسبت اللہ تعالیٰ اسی انعام کا ذکر ان الفاظ میں فرماتا ہے کہ وَاِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ يَا قَوْمِ اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللهِ عَلَيْكُمُ اِذْجَعَلَ فِيكُمُ انْبِيَاءَ وَ جَعَلَكُمْ مُلُوكًا وَانكُمْ مَّالَمْ يُؤْتَ اَحَدًا مِّنَ الْعَالَمِينَ (مائده ع4)