مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 154 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 154

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے آیت استخلاف کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: یہ آیت جو آیت استخلاف کہلاتی ہے اس میں مندرجہ ذیل امور بیان کئے گئے ہیں: اوّل جس انعام کا یہاں ذکر کیا گیا ہے وہ ایک وعدہ ہے۔دوم یہ وعدہ امت سے ہے جب تک وہ ایمان اور عمل صالح پر کاربند رہے۔سوم: اس وعدہ کی غرض یہ ہے کہ: (الف) مسلمان بھی وہی انعام پائیں جو پہلی امتوں نے پائے تھے کیونکہ فرماتا ہے: لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ (ب) اس وعدہ کی دوسری غرض تمکین دین ہے۔(ج) اس کی تیسری غرض مسلمانوں کے خوف کو امن سے بدل دینا ہے۔(د) اس کی چوتھی غرض شرک کو دور کرنا اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کا قیام ہے۔اس آیت کے آخر میں وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَسِقُونَ کہہ کر اللہ تعالیٰ نے اس کے وعدہ ہونے پر زور دیا اور وَلَئِنْ كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ (براہیم : 8) کے وعید کی طرف توجہ دلائی کہ ہم جو انعامات تم پر نازل کرنے لگے ہیں اگر تم ان کی ناقدری کرو گے تو ہم تمہیں سخت سزا دیں گے۔خلافت بھی چونکہ بھاری انعام ہے اس لئے یاد رکھو جو لوگ اس نعمت کی ناشکری کریں گے وہ فاسق ہو جائیں گے۔یہ آیت ایک زبردست شہادت خلافت راشدہ پر ہے اور اس میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور احسان مسلمانوں میں خلافت کا نظام قائم کیا جائے گا جو موید من اللہ ہو گا جیسا کہ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ امَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِى الْاَرْضِ اور وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ سے ظاہر ہے اور مسلمانوں کو پہلی قوموں کے انعامات میں سے وافر حصہ دلانے والا ہو گا پھر اس آیت میں خلفا کی علامات بھی بتائی گئی ہیں جن سے بچے اور جھوٹے میں فرق کیا جا سکتا ہے اور وہ یہ ہیں: اوّل: خلیفہ خدا بناتا ہے یعنی اس کے بنانے میں انسانی ہاتھ نہیں ہوتا نہ وہ خود خواہش کرتا ہے اور نہ کے ذریعہ وہ خلیفہ ہوتا ہے بلکہ بعض دفعہ تو ایسے حالات میں وہ خلیفہ بنتا ہے جبکہ اس کا خلیفہ ہونا بظاہر ناممکن سمجھا جاتا ہے۔چنانچہ یہ الفاظ کہ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصَّلِحَتِ خود ظاہر کرتے ہیں کہ خلیفہ خدا ہی بناتا ہے کیونکہ جو وعدہ کرتا ہے وہی دیتا بھی ہے۔نہ یہ کہ وعدہ تو وہ کرے اور اسے پورا کوئی اور کرے۔پس اس آیت میں پہلی بات یہ بتائی گئی ہے کہ بچے خلفا کی آمد خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو گی۔کوئی شخص خلافت کی خواہش کر کے خلیفہ نہیں بن سکتا اور نہ کسی منصوبہ کے ماتحت خلیفہ بن سکتا ہے خلیفہ وہی ہو گا جسے خدا بنانا چاہے گا بلکہ بسا اوقات وہ ایسے حالات میں خلیفہ ہو گا جبکہ دنیا اس کے خلیفہ ہونے کو ناممکن خیال کرتی ہوگی۔منصوبه خلفا دوسری علامت اللہ تعالیٰ نے بچے خلیفہ کی یہ بتائی ہے کہ وہ اس کی مدد انبیاء کے مشابہ کرتا ہے کیونکہ فرماتا۔ہے كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ کہ یہ خلفا ہماری نصرت کے ایسے ہی مستحق ہوں گے جیسے پہلے پہلی خلافتوں کو دیکھا جاتا ہے تو وہ تین قسم کی نظر آتی ہیں۔اول خلافت نبوت جیسے آدم علیہ السلام کی خلافت تھی جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً (بقره:31) میں زمین میں اپنا ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔اب آدم علیہ السلام کا انتخاب نہیں کیا گیا تھا اور نہ وہ دنیوی بادشاہ تھے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے ایک وعدہ کیا اور انہیں اپنی طرف سے زمین میں آپ کھڑا کیا اور جنہوں نے ان کا انکار کیا اور جب 154