مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 149
149 سے نزدیک آ جائیں گی یہاں تک کہ خدا تعالیٰ کا وعدہ آ پہنچے گا اور خدا تعالیٰ اپنے وعدوں میں تخلف نہیں کرتا۔اور ہم کسی قوم پر عذاب نازل نہیں کرتے جب تک ایک رسول بھیج نہ لیں۔ان آیات کو اگر کوئی شخص تأمل اور غور کی نظر سے دیکھے تو میں کیونکر کہوں کہ وہ اس بات کو سمجھ نہ جائے کہ خدا تعالیٰ اس اُمت کے لیے خلافت دائمی کا صاف وعدہ فرماتا ہے۔اگر خلافت دائمی نہیں تھی تو شریعت موسوی کے خلیفوں سے تشبیہ دینا کیا معنی رکھتا تھا اور اگر خلافت راشدہ صرف تمیں برس تک رہ کر پھر ہمیشہ کیلئے اس کا دور ختم ہو گیا تھا تو اس سے لازم آتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا ہرگز یہ ارادہ نہ تھا کہ اس اُمت پر ہمیشہ کیلئے ابواب سعادت مفتوح رکھے کیونکہ روحانی سلسلہ کی موت سے دین کی موت لازم آتی ہے اور ایسا مذہب ہرگز زندہ نہیں کہلا سکتا جس کے قبول کرنے والے خود اپنی زبان سے ہی یہ اقرار کریں کہ تیرہ سو برس سے یہ مذہب مرا ہوا ہے اور خدا تعالیٰ نے اس مذہب کے لئے ہر گز یہ ارادہ نہیں کیا کہ حقیقی زندگی کا وہ نور جو نبی کریم کے سینہ میں تھا وہ تو راث کے طور پر دوسروں میں چلا آوے۔افسوس کہ ایسے خیال پر جمنے والے خلیفہ کے لفظ کو بھی جو استخلاف سے مفہوم ہوتا ہے تدبر سے نہیں سوچتے کیونکہ خلیفہ جانشین کو کہتے ہیں اور رسول کا جانشین حقیقی معنوں کے لحاظ سے وہی ہوسکتا ہے جو ظلی طور پر رسول کے کمالات اپنے اندر رکھتا ہو اس واسطے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ چاہا کہ ظالم بادشاہوں پر خلیفہ کا لفظ اطلاق ہو کیونکہ خلیفہ درحقیقت رسول کا ظل ہوتا ہے اور چونکہ کسی انسان کیلئے دائمی طور پر بقا نہیں۔پر لہذا خدا تعالیٰ نے ارادہ کیا کہ رسولوں کے وجود کو جو تمام دنیا کے وجودوں سے اشرف و اولی ہیں ظلی طور ہمیشہ کیلئے تا قیامت قائم رکھے سو اسی غرض سے خدا تعالیٰ نے خلافت تجویز کیا تا دنیا کبھی اور کسی زمانہ میں پھیل رہے برکاتِ رسالت سے محروم نہ رہے۔پس جو شخص خلافت کو صرف تیں برس تک مانتا ہے وہ اپنی نادانی خلافت کی علت غائی کو نظر انداز کرتا ہے اور نہیں جانتا کہ خدا تعالیٰ کا یہ ارادہ تو ہر گز نہیں تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد صرف تمیں برس تک رسالت کی برکتوں کو خلیفوں کے لباس میں قائم رکھنا ضروری ہے۔پھر بعد اس کے دنیا تباہ ہو جائے تو ہو جائے کچھ پروا نہیں بلکہ پہلے دنوں میں تو خلیفوں کا ہونا بجز شوکت اسلام پھیلانے کے کچھ اور زیادہ ضرورت نہیں رکھتا تھا کیونکہ انوار رسالت اور کمالات نبوت تازہ بتازہ تھے اور ہزارہا معجزات بارش کی طرح ابھی نازل ہو چکے تھے اور اگر خدا تعالیٰ چاہتا تو اس کی سنت اور قانون سے یہ بھی بعید نہ تھا کہ بجائے ان چار خلیفوں کے اس تیس برس کے عرصہ تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر کو ہی بڑھا دیتا اس حساب سے تیس برس کے ختم ہونے تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کل 93 برس کی عمر تک پہنچتے اور یہ اندازہ اس زمانہ کی مقرر عمروں سے نہ کچھ زیادہ اور نہ اس قانون قدرت سے کچھ بڑھ کر ہے جو انسانی عمروں کے بارے میں ہماری نظر کے سامنے ہے۔پس یہ حقیر خیال خدا تعالیٰ کی نسبت تجویز کرنا کہ اس کو صرف اس امت کے تمیں برس کا ہی فکر تھا اور پھر اس کو ہمیشہ کے لئے ضلالت میں چھوڑ دیا اور وہ نور جو قدیم سے انبیائے سابقین کی امت میں خلافت کے آئینہ میں وہ دکھلاتا رہا اس امت کیلئے دکھلانا اس کو منظور نہ ہوا۔کیا عقل سلیم خدائے رحیم و کریم کی نسبت ان باتوں کو تجویز کرے گی ہر گز نہیں۔اور پھر یہ آیت خلافت ائمہ پر گواہ ناطق ہے۔وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ (الانبياء: 106) کیونکہ یہ آیت صاف صاف پکار رہی ہے کہ اسلامی خلافت دائمی ہے اس لئے کہ: يَرِثُهَا کا لفظ دوام کو چاہتا ہے۔وجہ یہ کہ اگر آخری نوبت فاسقوں کی ہو تو زمین کے وارث وہی قرار پائیں گے نہ کہ صالح اور سب کا وارث وہی ہوتا ہے جو سب کے بعد ،