مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 150 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 150

66 ہو۔(شہادت القرآن - روحانی خزائن جلد نمبر 6 صفحہ 351 تا 354) حضرت مسیح موعود علیہ السلام اسی مضمون کی مزید وضاحت فرماتے ہیں: ”مسلمانوں کے آخری زمانہ کے لئے قرآن شریف نے وہ لفظ استعمال کیا ہے جو یہود کے لئے استعمال کیا تھا یعنی فرمایا: فَيَنْظُرُ كَيْفَ تَعْلَمُونَ۔جس کے یہ معنے ہیں کہ تم کو خلافت اور سلطنت دی جائے گی مگر آخری زمانہ میں تمہاری بد اعمالی کی وجہ سے وہ سلطنت تم سے چھین لی جائے گی جیسا کہ یہودیوں سے چھین لی گئی تھی اور پھر سورۃ نور میں صریح اشارہ فرماتا ہے کہ ہر ایک رنگ میں جیسے بنی اسرائیل میں خلیفے گزرے ہیں وہ تمام رنگ اِس اُمت کے خلیفوں میں بھی ہوں گے چنانچہ اسرائیلی خلیفوں میں سے حضرت عیسی علیہ السلام ایسے خلیفے تھے جنہوں نے نہ تلوار اٹھائی اور نہ جہاد کیا۔سو اس اُمت کو بھی اسی رنگ کا مسیح موعود دیا گیا دیکھو آیت : وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَ لَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِى ارتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَةِ لَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمَنًا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَسِقُونَ ) (سورۃ النور: 56) اس آیت میں فقره كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ نبلِهِم قابل غور ہے کیونکہ اس سے سمجھا جاتا ہے کہ محمدی خلافت کا سلسلہ موسوی خلافت کے سلسلہ سے مشابہ ہے اور چونکہ موسوی خلافت کا انجام ایسے نبی پر ہوا یعنی حضرت عیسی علیہ السلام پر جو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے چودھویں صدی کے سر پر آیا اور نیز کوئی جنگ اور جہاد نہیں کیا اس لئے ضروری تھا کہ آخری خلیفہ سلسلہ محمدی کا بھی اس شان کا ہو۔“ ط (لیکچر سیالکوٹ۔رحانی خزائن جلد نمبر 20 صفحہ 213 تا 214) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسی مضمون پر روشنی ڈالتے ہوئے براہین احمدیہ میں فرمایا: ”خدا نے تم سے بعض نیکو کار ایمانداروں کے لئے یہ وعدہ ٹھہرا رکھا ہے کہ وہ انہیں زمین پر اپنے رسول مقبول کے خلیفے کرے گا۔اُنہیں کی مانند جو پہلے کرتا رہا ہے اور ان کے دین کو کہ جو ان کے لئے اس نے پسند کر لیا ہے یعنی دین اسلام کو زمین پر جما دے گا اور مستحکم اور قائم کر دے گا اور بعد اس کے کہ ایماندار خوف کی حالت میں ہوں گے یعنی بعد اس وقت کے کہ جب بباعث وفات حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ خوف دامن گیر ہو گا کہ شاید اب دین تباہ نہ ہو جائے تو اس خوف اور اندیشہ کی حالت میں خدائے تعالیٰ خلافت حقہ کو قائم کر کے مسلمانوں کو اندیشہ ابترئی دین سے بے غم اور امن کی حالت میں کر دے گا وہ خالصتاً میری پرستش کریں گے اور مجھ سے کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں گے یہ تو ظاہری طور پر بشارت ہے مگر جیسا کہ آیات قرآنیہ میں عادت الہیہ جاری ہے اس کے نیچے ایک باطنی معنے بھی ہیں اور وہ یہ ہیں کہ باطنی طور پر ان آیات میں خلافت روحانی کی طرف بھی اشارہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر ایک خوف کی حالت میں کہ جب محبت الہیہ دلوں سے اٹھ جائے اور مذاہب فاسدہ ہر طرف پھیل جائیں اور لوگ رُو بہ دنیا ہو جائیں اور دین کے گم ہونے کا اندیشہ ہو تو ہمیشہ ایسے وقتوں میں خدا روحانی خلیفوں کو پید کرتا رہے گا کہ جن کے ہاتھ روحانی طور پر نصرت اور فتح دین کی ظاہر ہو اور حق کی عزت اور باطل کی ذلت ہوتا ہمیشہ دین اور اپنی اصلی تازگی پر عود کرتا رہے اور ایماندار ضلالت کے پھیل جانے اور دین کے مفقود ہو جانے کے اندیشہ سے امن کی حالت میں آ جائیں۔“ (براہین احمدیہ حصہ سوم روحانی خزائن جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 259 تا 260) 150