مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 518 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 518

اپنی بیماری کی شدت کا ذکر کرتے ہوئے عرض کیا کہ میرے پاس کافی مال ہے اور ایک بیٹی کے سوا میرا کوئی قریبی وارث نہیں۔کیا میں اپنی جائیداد کا دو تہائی حصہ صدقہ کر دوں؟ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔نہیں۔اس پر میں نے درخواست کی کہ آدھا حصہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔نہیں۔پھر میں نے عرض کیا کہ تیسرے حصہ کی اجازت دی جائے تو آپ نے فرمایا۔ہاں جائیداد کے تیسرے حصہ کی اجازت ہے اور اصل میں تو یہ تیسرا حصہ بھی زیادہ ہی ہے کیونکہ اپنے وارثوں کو خوشحال اور فارغ البال چھوڑ جانا اس بات سے بہتر ہے کہ وہ تنگ دست اور پائی پائی کے محتاج ہوں اور لوگوں سے مانگتے پھریں۔“ ارشادات حضرت مسیح موعود علیہ السلام : ہے (بخاری کتاب الفرائض كتاب ميراث البنات) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رسالہ الوصیت میں خلافت احمدیہ کے بارے میں پیش گوئی بیان فرمائی۔اس پیش گوئی کا رسالہ الوصیت میں بیان ہونا نظام وصیت اور نظام خلافت کا آپس میں گہرا تعلق ثابت کرتا ہے۔چنانچہ آپ علیہ السلام فرماتے ہیں: تم میری اس بات سے جو میں نے تمہارے پاس بیان کی غمگین مت ہو اور تمہارے دل پریشان نہ ہو جائیں کیونکہ تمہارے لئے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے اور اس کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے کیونکہ وہ دائمی جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہو گا اور وہ دوسری قدرت نہیں آسکتی جب تک میں نہ جاؤں۔لیکن میں جب جاؤں گا تو پھر خدا اس دوسری قدرت کو تمہارے لئے بھیج دے گا جو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی جیسا کہ خدا کا براہین احمدیہ میں وعدہ ہے اور وہ وعدہ میری ذات کی نسبت نہیں ہے بلکہ تمہاری نسبت وعدہ ہے جیسا کہ خدا فرماتا ہے کہ میں اس جماعت کو جو تیرے پیرو ہیں قیامت تک دوسروں پر غلبہ دوں گا۔سو ضرور ہے کہ تم پر میری جدائی کا دن آوے تا بعد اس کے وہ دن آوے جو دائمی وعدہ کا دن ہے۔وہ ہمارا خدا وعدوں کا سچا اور وفادار اور صادق خدا ہے وہ سب کچھ تمہیں دکھلائے گا جس کا اس نے وعدہ فرمایا ہے۔اگر چہ یہ دن دنیا کے آخری دن ہیں اور بہت بلائیں ہیں جن کے نزول کا وقت ہے پر ضرور ہے کہ یہ دنیا قائم رہے جب تک وہ تمام باتیں پوری نہ ہو جائیں جن کی خدا نے خبر دی۔میں خدا کی طرف سے ایک قدرت کے رنگ میں ظاہر ہوا اور میں خدا کی ایک مجسم قدرت ہوں اور میرے بعد بعض اور وجود ہوں گے جو دوسری قدرت کا مظہر ہوں گے۔سو تم خدا کی قدرت ثانی کے انتظار میں اکٹھے ہو کر دعا کرتے رہو اور چاہئے کہ ہر ایک صالحین کی جماعت ہر ایک ملک میں اکٹھے ہو کر دعا میں لگے رہیں تا دوسری قدرت آسمان سے نازل ہو اور ی ہو اور تمہیں دکھا دے کہ تمہارا خدا ایسا قادر خدا ہے۔اپنی موت کو قریب سمجھو تم نہیں جانتے کہ کس وقت وہ گھڑی آجائے گی۔“ وو (رساله الوصیت - روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 301-306 ) دو لکھیں نظام وصیت کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ہر ایک صاحب جو شرائط رسالہ الوصیۃ کی پابندی کا اقرار کریں ضروری ہوگا کہ وہ ایسا اقرار کم سے کم و گواہوں کی ثبت شہادت کے ساتھ اپنے زمانہ قائمی ہوش و حواس میں انجمن کے حوالہ کریں اور تصریح کہ وہ اپنی جائیداد منقولہ و غیر منقولہ کا دسواں حصہ اشاعت اغراض سلسلہ عالیہ احمدیہ کے لئے بطور وصیت یا وقف دیتے ہیں۔“ (رسالہ الوصیت۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 323 ) نظام وصیت کی مد میں جمع ہونے والے اموال کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا:۔518