مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 519
ہیں:۔یہ مت خیال کرو کہ یہ صرف دُور از قیاس باتیں ہیں بلکہ یہ اس قادر کا ارادہ ہے جو زمیں و آسمان کا بادشاہ ہے۔مجھے اس بات کا غم نہیں کہ یہ اموال جمع کیونکر ہوں گے؟ اور ایسی جماعت کیونکر پیدا ہوگی جو ایمانداری کے جوش سے یہ مردانہ کام دکھلائے؟ بلکہ مجھے یہ فکر ہے کہ ہمارے زمانہ کے بعدوہ لوگ جن کے سپر د ایسے مال کئے جائیں وہ کثرت مال کو دیکھ کر ٹھوکر نہ کھاویں اور دنیا سے پیار نہ کریں۔سو میں دعا کرتا ہوں کہ ایسے امین ہمیشہ اس سلسلہ کو ہاتھ آتے رہیں جو خدا کے لئے کام کریں۔ہاں جائز ہو گا کہ جن کا کچھ گزارہ نہ ہو ان کو بطور مدد خرچ اس میں سے دیا جائے۔(رسالہ الوصیت۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 319 ) بہشتی مقبرہ میں دفن ہونے والوں کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعائیں: اور میں دعا کرتا ہوں کہ خدا اس میں برکت دے اور اسی کو بہشتی مقبرہ بنا دے اور یہ اس جماعت کے پاک دل لوگوں کی خوابگاہ ہو جنہوں نے درحقیقت دین کو دنیا پر مقدم کر لیا اور دنیا کی محبت چھوڑ دی اور خدا کے لئے ہو گئے اور پاک تبدیلی اپنے اندر پیدا کر لی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی طرح وفاداری اور صدق کا نمونہ دکھلایا۔آمین یا رب العالمین۔پھر میں دعا کرتا ہوں کہ اے میرے قادر خدا اس زمین کو میری جماعت میں سے ان پاک دلوں کی قبریں بنا جو فی الواقع تیرے لئے ہو چکے اور دنیا کی اغراض کی ملونی ان کے کاروبار میں نہیں۔آمین یا رب العالمین۔پھر میں تیسری دفعہ دعا کرتا ہوں کہ اے میرے قادر کریم! اے خدائے غفور و رحیم ! تو صرف ان لوگوں کو اس جگہ قبروں کی جگہ دے جو تیرے اس فرستادہ پر سچا ایمان رکھتے ہیں اور کوئی نفاق اور غرض نفسانی اور بدظنی اپنے اندر نہیں رکھتے اور جیسا کہ حق ایمان اور اطاعت کا ہے بجا لاتے ہیں اور تیرے لئے اور تیری راہ میں اپنے دلوں میں جان فدا کر چکے ہیں جن سے تو راضی ہے اور جن کو تو جانتا ہے کہ وہ بکلی تیری محبت میں کھوئے گئے اور تیرے فرستادہ سے وفاداری اور پورے ادب اور انشراحی ایمان کے ساتھ محبت اور جانفشانی کا تعلق رکھتے ہیں۔آمین یا رب العالمین۔“ نظام وصیت اور خلافت راشدہ کا باہمی تعلق: (رسالہ الوصیت۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 316 تا 318 ) حضرت خلیفة المسح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نظام وصیت اور نظام خلافت کا تعلق بیان کرتے ہوئے فرماتے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے رسالہ الوصیت میں دو باتوں کا ذکر فرمایا ہے کہ ایک تو یہ ہے کہ آپ کی وفات کے بعد نظام خلافت کا اجرا اور دوسرے اپنی وفات پر آپ کو یہ فکر پیدا ہونا کہ ایسا نظام جاری کیا جائے جس سے افراد جماعت میں تقویٰ بھی پیدا ہو اور اس میں ترقی بھی ہو اور دوسرے مالی قربانی کا بھی ایسا نظام جاری ہو جائے جس سے کھرے اور کھوٹے میں تمیز ہو جائے اور جماعت کی مالی ضروریات بھی باحسن پوری ہو سکیں اس لیے وصیت کا نظام جاری فرمایا تھا۔تو اس لحاظ سے میرے نزدیک۔۔۔نظام خلافت اور نظام وصیت کا بڑا گہرا تعلق ہے اور ضروری نہیں کہ ضروریات کے تحت پہلے خلفا جس طرح تحریکات کرتے رہے ہیں آئندہ بھی اسی طرح مالی تحریکات ہوتی رہیں بلکہ نظام وصیت کو اب اتنا فعال ہو جانا چاہئے کہ سو سال بعد 519