مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 517
اُس نے اُن کے لیے پسند کیا ، ضرور تمکنت عطا کرے گا اور اُن کی خوف کی حالت کے بعد ضرور انہیں امن کی حالت میں بدل دے گا۔وہ میری عبادت کریں گے۔میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے اور جو اس کے بعد بھی ناشکری کرے تو یہی وہ لوگ ہیں جو نافرمان ہیں۔“ (ترجمه از قرآن کریم اردو ترجمه از حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی) يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلَى تِجَارَةٍ تُنْجِيْكُمْ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ تُؤْمِنُوْنَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَ تُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ ، ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنتُمْ تَعْلَمُونَ يَغْفِرُ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَيُدْخِلُكُمْ جَنْتٍ تَجْرِى مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَرُ وَمَسَكِنَ طَيِّبَةً فِي جَنْتِ عَدْنٍ ، ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ o (سورة الصف: 11تا13) ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! کیا میں تمہیں ایک ایسی تجارت پر مطلع کروں جو تمہیں ایک دردناک عذاب سے نجات دے گی؟ تم (جو) اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاتے ہو اور اللہ کے راستے میں اپنے اموال اور اپنی جانوں کے ساتھ جہاد کرتے ہو، یہ تمہارے لئے بہت بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔وہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں ایسی جنتوں میں داخل کر دے گا جن کے دامن میں نہریں بہتی ہیں اور ایسے پاکیزہ گھروں میں بھی جو ہمیشہ رہنے والی جنتوں میں ہیں۔یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔“ إنَّ اللَّه اشْتَرى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ ط (ترجمه از قرآن کریم اردو ترجمہ از حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی) (سورة التوبه: 111) یقیناً اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے اموال خرید لیے ہیں تاکہ اس کے بدلہ میں انہیں جنت ملے (ترجمه از قرآن کریم اردو ترجمه از حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ) احادیث رسالہ الوصیت جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نظام وصیت کا ذکر کیا ہے، کی اشاعت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ پیشگوئی پوری ہوئی ہے جو مسلم کی روایت میں موجود ہے کہ: يُحَدِ ثُهُمْ بِدَرَجَاتِهِمْ فِي الْجَنَّةِ (مسلم کتاب الفتن باب ذكر الدجّال) ترجمہ: (مسیح موعود ) اپنی جماعت کے لوگوں سے ان کے درجات جو جنت میں ان کو عنایت ہوں گے بیان کرے گا۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِى وَقَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ نِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ مِنْ وَجَعِ اشْتَدَّ بِي فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي قَدْ بَلَغَ بِي مِنَ الْوَجَعِ مَاتَرَىٰ وَ أَنَا ذُوْمَالٍ وَلَا يَرِثُنِي إِلَّا ابْنَةٌ لِّيَ أَفَاتَصَدَقَ بِثُلُثَى مَالِي؟ قَالَ : لَا قُلْتُ فَالشَّطْرُ يَا رَسُوْلَ اللهِ ؟ فَقَالَ: لَا قُلْتُ : فَالقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: القُلتُ وَ الثُّلْتُ كَثِيرٌ أَوْ كَبِيرٌ إِنَّكَ أَنْ تَذَرَ وَرَثَتَكَ اَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِّنْ أَنْ تَذَرَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ - سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حجۃ الوداع کے سال مکہ میں میں بیمار پڑ گیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے۔میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حضرت 517