مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 473
غیر مذہب والوں کو بتا دیئے گئے تھے تو اس میں بھی مولوی محمد علی صاحب میرا مقابلہ نہیں کر سکتے۔“ الفضل 13 جولائی 1941 ، صفحہ 8) خدا تعالیٰ ہمیشہ کبھی وحی الہام اور کبھی رویا کشوف کے ذریعہ سے اپنے پیاروں پر ہی تجلی فرماتا ہے مولوی محمد علی صاحب اس چیلنج کا جواب کیسے دے سکتے تھے۔(5) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی طرف سے ساری دنیا کو معارف قرآنیہ میں مقابلہ کرنے کا چیلنج: و پھر میں وہ شخص تھا جسے علوم ظاہری میں سے کوئی علم حاصل نہیں تھا؟ مگر خدا نے اپنے فضل سے فرشتوں کو میری تعلیم کے لئے بھجوایا اور مجھے قرآن کے ان مطالب سے آگاہ فرمایا جو کسی انسان کے واہمہ اور گمان میں بھی نہیں آسکتے تھے، وہ علم جو خدا نے مجھے عطا فرمایا وہ چشمہ روحانی جو میرے سینہ میں پھوٹا وہ خیالی یا قیاسی نہیں ہے بلکہ ایسا قطعی اور یقینی ہے کہ میں ساری دنیا کو چیلنج کرتا ہوں کہ اگر اس دنیا کے پردہ پر کوئی شخص ایسا ہے جو یہ دعویٰ کرتا ہو کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اسے قرآن سکھایا گیا ہے تو میں ہر وقت اس سے مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہوں لیکن میں جانتا ہوں آج دنیا کے پردہ سوائے میرے اور کوئی شخص نہیں ہے جسے خدا کی طرف سے قرآن کریم کا علم عطا فرمایا گیا ہو۔خدا نے مجھے علم قرآن بخشا ہے اور اس زمانہ میں اس نے قرآن سکھانے کے لئے مجھے دنیا کا استاد مقرر کیا ہے۔خدا نے مجھے اس غرض کے لئے کھڑا کیا ہے کہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم کے نام کو دنیا کے کناروں تک پہنچاؤں اور اسلام کے مقابلہ میں دنیا کے تمام باطل ادیان کو ہمیشہ کی شکست دے دوں۔دنیا زور لگا لے، وہ اپنی تمام طاقتوں اور جمیعتوں کو اکٹھا کر لے، عیسائی بادشاہ بھی اور ان کی حکومتیں بھی مل جائیں، یورپ بھی اور امریکہ بھی اکٹھا ہو جائے، دنیا کی تمام بڑی بڑی مالدار اور طاقتور قومیں اکٹھی ہو جائیں اور وہ مجھے اس مقصد میں نا کام کرنے کے لئے متحد ہو جائیں پھر بھی میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ میرے مقابلہ میں ناکام رہیں گی اور خدا میری دعاؤں اور تدابیر کے سامنے ان کے تمام منصوبوں اور مکروں اور فریبوں کو ملیا میٹ کر دے گا اور خدا میرے ذریعہ سے یا میرے شاگردوں اور اتباع کے ذریعہ سے اس پیشگوئی کی صداقت ثابت کرنے کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کے طفیل اور صدقے اور صدقے اسلام کی عزت کو قائم کرے گا اور اس وقت تک دنیا کو نہیں چھوڑے گا جب تک اسلام پھر اپنی پوری شان کے ساتھ دنیا میں قائم نہ ہو جائے اور جب تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پھر دنیا کا زندہ نبی تسلیم کر لیا جائے۔اے میرے دوستو! میں اپنے لئے کسی عزت کا خواہاں نہیں جب تک خدا تعالیٰ مجھ پر ظاہر کرے کسی مزید عمر کا امیدوار۔ہاں خدا تعالیٰ کے فضل کا میں امیدوار ہوں اور میں کامل یقین رکھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کی عزت کے قیام میں اور دوبارہ اسلام کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے اور مسیحیت کے کچلنے میں میرے گزشتہ یا آئندہ کاموں کا انشاء اللہ بہت کچھ حصہ ہو گا اور وہ ایڑیاں جو شیطان کا سر کچلیں گی اور مسیحیت کا خاتمہ کریں گی ان میں سے ایک ایڑی میری بھی ہو گی۔انشاللہ تعالی۔میں اس سچائی کو نہایت کھلے طور پر ساری دنیا کے سامنے پیش کرتا ہوں۔یہ آواز وہ ہے جو زمین و آسمان کے 473