مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 474
خدا کی آواز ہے، یہ مشیت وہ ہے جو زمین و آسمان کے خدا کی مشیت ہے۔یہ سچائی نہیں ٹلے گی! نہیں ملے گی! اسلام دنیا پر غالب آ کر رہے گا، مسیحیت دنیا میں مغلوب ہو کر رہے گی۔اب کوئی سہارا نہیں جو عیسائیت کو میرے حملوں سے بچا سکے۔خدا میرے ہاتھ سے اس کو شکست دے گا اور یا تو میری زندگی میں ہی اس کو اس طرح کچل کر رکھ دے گا کہ وہ سر اٹھانے کی بھی تاب نہیں رکھے گی اور یا پھر میرے بوئے ہوئے بیج سے وہ درخت پیدا ہو گا جس کے سامنے عیسائیت ایک خشک جھاڑی کی طرح مرجھا کر رہ جائے گی اور دنیا میں چاروں طرف اسلام اور احمدیت کا جھنڈا انتہائی بلندیوں پر اڑتا ہوا دکھائی دے گا۔“ الموعود انوار العلوم جلد نمبر 17 صفحہ 648,647) حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے اس چیلنج کو قبول کرنے کی کسی کو کوئی جرات نہ ہوئی جیسا کہ حضرت خلیفۃ امسیح الثانی رضی اللہ عنہ خود فرماتے ہیں: میں نے بار بار لوگوں کو چیلنج دیا ہے کہ وہ قرآن کریم کی تفسیر میں میرا مقابلہ کریں مگر آج تک کسی کو جرات نہیں ہوئی کہ وہ قرآنی تفسیر میں میرا مقابلہ کر سکے۔“ الموعود انوار العلوم جلد نمبر 17 صفحہ 571) 6) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی طرف سے قبولیت دعا کے میدان میں مقابلہ کا چیلنج:۔میں نے بار بار چیلنج دیا ہے کی اگر کسی میں ہمت ہے تو وہ دعاؤں کی قبولیت کے سلسلہ میں ہی میرا مقابلہ کر کے دیکھ لے مگر کوئی مقابلہ پر نہیں آیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی اس رنگ میں دنیا کو مقابلہ کا چیلنج دے چکے ہیں آپ علیہ السلام فرماتے ہیں: ”میرے مخالف منکروں میں سے جو شخص اشد مخالف ہو اور مجھ کو کافر اور کذاب سمجھتا ہو وہ کم سے کم دس نامی مولوی صاحبوں یا دس نامی رئیسوں کی طرف سے منتخب ہو کر اس طور سے مجھ سے مقابلہ کرے جو دو سخت بیماروں پر ہم دونوں اپنے صدق و کذب کی آزمائش کریں یعنی اس طرح پر کہ دو خطرناک بیماروں کو جو کسی کے خطرناک مرض میں مبتلا ہوں قرعہ اندازی دے ذریعہ سے دونوں بیماروں کو اپنی اپنی دعا کے لئے تقسیم کر لیں۔پھر جس فریق کا بیمار بکی اچھا ہو جاوے یا دوسرے بیمار کے مقابل پر اس کی عمر زیادہ کی جائے وہی فریق سچا سمجھا جاوے۔میری طرف سے بھی ہے اگر لوگ اس معاملہ میں میری دعاؤں کی قبولیت کو دیکھنا چاہتے ہیں تو وہ بعض سخت مریض قرعہ اندازی کے ذریعہ تقسیم کر لیں اور پھر دیکھیں کہ کون ہے جس کی دعاؤں کو خدا تعالیٰ قبول کرتا ہے۔کس کے مریض اچھے ہوتے ہیں اور کس کے مریض اچھے نہیں ہوتے۔“ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے اس دعا کے چیلنج کو قبول کرنے کی کسی کو ہمت نہ ہوئی۔الموعود انوار العلوم جلد نمبر 17 صفحہ 631) (7) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی طرف سے دنیا کے ہر علم کے ماہر کے ہر اعتراض کا قرآن کے ذریعے جواب دینے کا چیلنج 474