مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 472
نے حضور رضی اللہ عنہ کی طرف سے شائع کردہ مقابلہ کی کوئی بھی صورت قبول نہ کی۔“ تاریخ احمدیت جلد نمبر 4 صفحہ 534، 535) (2 حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی طرف سے بہائیوں کو قبولیت دعا کے میدان میں مقابلہ کرنے کا چیلنج: "آج میں کہتا ہوں کہ دنیا کا کوئی مذہب دعا سے مقابلہ کر لے۔میرے مقابلہ میں دعا کر کے دیکھ لے کہ خدا میری مدد کرتا ہے یا اس کی اور میں ہی اپنے متعلق ہی نہیں کہتا میرے مرنے کے بعد بھی لمبے عرصہ تک جماعت احمدیہ میں ایسے انسان ہوں گے کہ جو نشان دکھائیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قرآن کریم کی تعلیم کے کامل ہونے کا اپنی کتابوں میں اس قدر ذکر کیا ہے کہ میں حیران ہوں کہ حضرت صاحب کو راست باز جان کر کس طرح کوئی کہ سکتا ہے کہ قرآن کریم کی تعلیم منسوخ ہو گئی؟ یا تو ایسے شخص کو عقل سے کورا کہنا پڑے گا یا (حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور بہاء اللہ ) دونوں میں سے ایک جھوٹا ہے۔“ (انوار العلوم جلد نمبر 8 صفحہ 38) اہل بہاء کی طرف سے حضرت مصلح موعود علیہ السلام کے اس چیلنج کو قبول کرنے کی کسی کو بھی جرات نہ ہوئی۔3 حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی طرف سے مولوی محمد علی امیر جماعت غیر مبائعین کو تفسیر نویسی کا چیلنج علم قرآن کے بارے میں مولوی صاحب (مولوی محمد علی صاحب۔ناقل) کو بار بار مقابلہ کا چیلنج دے چکا ہوں اور اب پھر کہتا ہوں کہ اگر انہیں علم قرآن کا دعوی ہے تو وہ میرے سامنے بیٹھ جائیں اور تفسیر نویسی میں مجھ سے مقابلہ کر لیں لیکن وہ کبھی بھی اس طرف نہیں آئے اور مجھے یقین ہے کہ اب بھی نہ آئیں گے۔“ (سوانح فضل عمر جلد نمبر 5 صفحہ 126) مولوی محمد علی صاحب حضور کی مقابلہ کی شرائط کے مطابق مقابلہ کے لئے تیار نہ ہوئے اور ہمیشہ کی طرح حیلے بہانے کر کے راہ فرار اختیار کی۔(4) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی طرف سے مولوی محمد علی امیر جماعت غیر مبایعین کو رؤیا و کشوف میں مقابلہ کرنے کا چیلنج: ”اس لحاظ سے بھی ہم میں اور غیر مبایعین میں کیسا عظیم الشان فرق ہے؟ دونوں طرف کے لیڈروں کو ہی لے لو میرے صرف ایک سال کے رویا کشوف اور الہامات جمع کئے جائیں تو وہ مولوی محمد علی صاحب کی ساری عمر کی خوابوں سے بڑھ جائیں گے پھر اگر ان رؤیا کشوف اور الہامات کو لے لیا جائے جو پورے ہونے سے پہلے 472