مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 47 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 47

اور ان چھ بزرگوں کا نام لینے کے بعد فرمایا: ”اگر خلافت سعد رضی اللہ عنہ کو ملے تو انہیں دے دی جائے کہ میں نے سعد رضی اللہ عنہ کو کسی کمزوری اور خیانت کی بنا پر معزول نہیں کیا تھا بصورت دیگر جس کو بھی اس خدمت کے لئے انتخاب کیا جائے ،مسلمانوں کو اس کی مدد کرنی چاہئے۔“ جب لوگوں کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس فیصلے کا علم ہوا تو وہ مطمئن ہو گئے۔فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ان کو بلایا جنہیں خلافت کی مجلس شوریٰ کا کارکن نامزد کیا تھا اور فرمایا: علی! میں تمھیں خدا کی قسم دیتا ہوں کہ اگر خلافت تمہیں مل جائے تو بنو ہاشم کو لوگوں کی گردنوں پر سوار نہ کر دیتا ! گردن عثمان! میں تمہیں خدا کی قسم دیتا ہوں کہ اگر تم خلیفہ ہو جاؤ تو بنو ابی معیط کو لوگوں کی گردنوں پر سوار نہ کر دینا! سعد! میں تمہیں خدا کی قسم دیتا ہوں کہ اگر خلافت کا فیصلہ تمہارے حق میں ہو تو اپنے رشتہ داروں کو لوگوں کی پر سوار نہ کر دینا اسی طرح دوسرے ارکان شوری کو بھی قسمیں دلائیں پھر کہا: ”جاؤ، مشورہ کر کے فیصلہ کرو، مسلمانوں کو نماز صہیب رضی اللہ عنہ پڑھائیں گے۔“ پھر ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کو بلایا جو عرب کے گنے چنے بہادروں میں سے تھے اور ان سے کہا: ”جس گھر میں یہ مشورہ کریں اس کے در دوازے پر کھڑے ہو جانا اور کسی کو گھر میں نہ جانے دینا۔“ دوسری روایت میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ابو طلحہ ! اپنے قبیلے کے پچاس انصاریوں کو لے کر ارکان شوری کے ساتھ رہنا، میرا خیال ہے کہ یہ کسی ایک رکن کے گھر میں جمع ہوں گے تم اپنے ساتھیوں کو لے کر اس گھر کے دروازے پر کھڑے ہو جانا اور کسی کو گھر میں نہ جانے دینا! ان لوگوں کو تین دن سے زیادہ مہلت دینے کی ضرورت نہیں۔اس دوران میں انہیں اپنے میں سے کسی ایک کو خلیفہ منتخب کر لینا چاہیئے! یا اللہ! میری طرف سے تو ان کا نگران ہے۔“ (حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ - صفحہ 744 تا 745۔مصنفہ محمد حسین ہیکل) کارنامے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے کارناموں کے بارے سیر الصحابہ میں لکھا ہے کہ: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تقریباً 15 ہجری میں ایک مستقل خزانہ کی ضرورت محسوس کی اور مجلس شوری کی منظوری کے بعد مدینہ منورہ میں بہت بڑا خزانہ قائم کیا۔دارالخلافہ کے علاوہ تمام اضلاع اور صوبہ جات میں بھی اس کی شاخیں قائم کی گئیں اور ہر جگہ اس محکمہ کے جدا گانہ افسر مقرر ہوئے۔مثلاً اصفہان میں خالد بن رضی اللہ عنہ حارث اور کوفہ میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ خزانہ کے افسر تھے۔صوبہ جات اور اضلاع کے بیت المال میں مختلف آمدنیوں کی جو رقم آتی تھی وہ وہاں کے سالانہ مصارف کے بعد اختتام سال پرصدر خزانہ یعنی مدینہ منورہ کے بیت المال میں منتقل کر دی جاتی تھی۔صدر بیت المال کی وسعت کا اندازہ اس سے ہو کہ دارالخلافہ کے باشندوں کی جو تنخواہیں اور وظائف مقرر تھے، صرف اس کی تعداد تین کروڑ درہم تھی۔بیت المال کے حساب کتاب کے لیے مختلف رجسٹر بنوائے، اس وقت تک کسی مستقل سن کا عرب میں رواج نہ تھا حضرت عمرؓ نے 12 ہجری میں سن ہجری ایجاد کر کے یہ کمی بھی پوری کر دی۔“ سکتا ہے (سیر اصحابہ جلد 1 صفحہ 140) 47