مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 48
48 ہمدردی خلق: با طبقات ابن سعد میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں لکھا ہے کہ: ”حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے (گشت کے دوران بچے کے رونے کی آواز سنی تو اس طرف روانہ ہوئے اس کی ماں کہا کہ اللہ سے ڈرو اور بچے کے ساتھ بھلائی کرو یہ کہہ کر اپنے مقام پر لوٹ آئے دوبارہ اس کے رونے کی آواز سنی تو اس کی ماں کے پاس گئے اور اسی طرح کہا اور اپنے مقام پر آ گئے جب آخر شب ہوئی تو پھر اس کے رونے کی آواز سنی اس کی ماں کے پاس آئے اور کہا تیرا بھلا ہو میں تجھے بہت بری ماں سمجھتا ہوں کیا ہے کہ میں تیرے لڑکے کو دیکھتا ہوں کہ اسے قرار نہیں۔اس نے کہ اے بندہ خدا! ( وہ عورت آپ کو پہچانتی نہ تھی) تم مجھے رات سے پریشان کر رہے ہو، میں اس کا دودھ چھڑوانا چاہتی ہوں تو یہ انکار کرتا ہے۔فرمایا: کیوں دودھ چھڑوانا چاہتی ہو اس نے کہا کہ عمر رضی اللہ عنہ صرف دودھ چھوڑنے والے کا بچوں کا حصہ مقرر کرتے ہیں۔پوچھا اس کی عمر کیا ہے؟ اس نے کہا: اتنے مہینے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: خدا تیرا بھلا کرے اس کے ساتھ جلدی نہ کر! پھر آپ رضی اللہ عنہ نے فجر کی نماز اس حالت میں پڑھی کہ شدت گریہ سے لوگ آپ رضی اللہ عنہ کی قرآت کو نہ سمجھ سکتے تھے۔جب سلام پھیرا تو کہا کہ: عمر کی خرابی ہو اس نے مسلمانوں کے کتنے بچے قتل کر دیئے۔پھر آپ رضی اللہ عنہ نے منادی کو حکم دیا، اس نے ندا دی کہ دیکھو خبردار! اپنے بچوں کے ساتھ دودھ چھڑوانے میں جلدی نہ کرو ہم اسلام میں پیدا ہونے والے ہر بچے کی عطا مقرر کرتے ہیں۔“ (طبقات ابن سعد جلد 3 صفحہ 104 و 105) عدل و انصاف ے کہ: سیر الصحابہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عدل و انصاف کے بارے میں لکھا ہے عیاض بن غنم عامل مصر کی نسبت شکایت پہنچی کہ وہ باریک کپڑے پہنتے ہیں اور ان کے دروازہ پر دربان مقرر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو تحقیقات پر مامور کیا، محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے پہنچ کر دیکھا تو واقعی دروازہ پر دربان تھا اور عیاض باریک کپڑے پہنے ہوئے کھڑے تھے۔اسی ہیئت اور لباس کے ساتھ لے کر مدینہ آئے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کا باریک کپڑا اُتروا دیا اور بالوں کا کرتہ پہنا کر جنگل میں بکریاں چرانے کا حکم دیا۔عیاض کو انکار کی مجال نہ تھی مگر بار بار کہتے تھے: اس سے مر جانا بہتر ہے! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کہ یہ تو تمہارا آبائی پیشہ ہے اس میں عار کیوں ہے؟ عیاض نے دل سے توبہ کی اور جب تک زندہ رہے اپنے فرائض نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیتے رہے۔66 (سير الصحابہ جلد 1 صفحہ 136) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت: حضرت عمرو بن میمون روایت کرتے ہیں: ”حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ابھی اللہ اکبر کہا ہی تھا کہ میں نے ان کو کہتے سنا۔کتے نے مجھے مار ڈالا ہے یا