مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 371
اللہ تعالیٰ کے لئے قربانی کا یہ جذبہ ہے کہ جتنی بھی توفیق ہے پیش کر دیتے ہیں۔اس سے ثواب ملتا ہے رقم سے تو نہیں ملتا۔“ حیات ناصر صفحہ 516,515 ) حضرت خلیفة المسح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ احباب جماعت سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”1974ء میں جماعت احمدیہ نے بڑی تکلیف کے دن گزارے۔ساری جماعت کا درد مجھے بھی اٹھانا پڑتا ہے۔جماعت میں سے جس دوست کو بھی تکلیف پہنچتی ہے وہ تو اس کے لئے بڑے دکھ درد کا موجب ہوتی ہی ہے لیکن میں بھی اپنی جگہ بڑی پریشانی میں وقت گزارتا ہوں چنانچہ 1974ء میں بھی بڑی پریشانی رہی۔بڑی دعائیں کیں۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس وقت جو جو باتیں بتائی تھیں ان پر ابھی اللہ تعالیٰ تین سال نہیں گزرے تھے کہ وہ باتیں پوری ہو گئیں۔اَلْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَی ذَلِکَ۔“ 66 مشعل راه جلد 3 صفحہ 488 489 ) محترمہ صاحبزادی امتہ العلیم صاحبہ حضرت خلیفتہ المسح الثالث رحمہ اللہ تعالی کے متعلق تحریر کرتی ہیں: ع ” خلافت سے گہری وابستگی اور خلیفہ وقت سے مخلصانہ پیار کی شدت اور اپنے پورے وجود کو، اپنی زندگی اور اپنے احساسات و جذبات کو خلیفہ وقت کے لیے وقف کر دینا ان کے احکامات پر خوش دلی سے تابع ہونا۔یہ ایسے اوصاف تھے جن کو عملاً کر دکھلایا اور آنے والوں کے لیے ایک بے نظیر مثال چھوڑ دی اور اپنی خلافت کے بعد ایسی تربیت کی کہ لوگوں کی خلافت سے وابستگی گہری ہوتی چلی گئی۔وہ اس کے مفہوم کو صحیح طریق پر سمجھنے لگے اور عمل کرنے لگے۔اپنے پیار اور شفقت سے ایسے لوگوں کا دل جیتا کہ تمام کے تمام دل حضور پر والہانہ 66 ثار ہونے لگے۔“ (سیدنا ناصر نمبر 1983ء صفحہ 52 ) مکرم مولا نا سلطان محمود انور صاحب اپنا ایک واقعہ تحریر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: " آپ (حضرت خلیفہ مسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کے محبت کے سمندر کی یہی تو شان تھی کہ روئے زمین پہ پھیلے ہوئے ایک کروڑ احمدیوں میں سے ہر ایک یہی یقین رکھتا تھا کہ جو شفقت اور پیار مجھے اپنے آقا سے مل رہا ہے۔اس کی مثال کسی اور میں نہیں پائی جاتی اور نہ ہی دوسرا اس کی لذت کا اندازہ کر سکتا ہے۔66 (سیدنا ناصر نمبر 1983 ءصفحہ 240 ) حضرت خلیفة المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کو احباب جماعت سے کس قدر محبت تھی اس سلسلہ میں مکرم بشیر احمد رفیق صاحب سابق امام مسجد فضل لندن تحریر کرتے ہیں: " آپ (حضرت خلیفہ مسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ مجسم شفقت تھے۔اپنے خدام کی معمولی سی تکلیف بھی آپ کو بے چین کر دیا کرتی تھی۔مئی 1971 ء میں خاکسار کو آپ کے پرائیویٹ سیکرٹری ہونے کا شرف حاصل تھا۔مئی کی ایک تاریخ ملاقات کے لئے مقرر تھی۔اس روز صبح سے ہی ملاقاتی دور و نزدیک سے جمع ہونے شروع ہو گئے۔ملاقات کے لئے 11 بجے کا وقت مقرر تھا۔دس بجے حضور کو شدید ضعف کا حملہ ہوا۔مکرم و محترم ڈاکٹر صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب فوراً تشریف لائے اور ایک گھنٹہ تک دوائیاں وغیرہ دیتے رہے۔گیارہ بجے جب ملاقات کا وقت ہوا تو مکرم ڈاکٹر صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب نے سختی سے ملاقات سے منع کیا اور عرض کیا کہ حضور کو مکمل آرام کرنا چاہئے۔حضور نے فرمایا کہ ملاقاتی اتنی دور سے تشریف لائے ہیں یہ ناممکن ہے کہ میں ان کو ملاقات کا موقع دیئے بغیر رخصت کر دوں اس لئے میں ملاقات ضرور کروں گا۔اس پر مکرم ڈاکٹر 371